உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک اسمبلی انتخابات: کیا سدارمیا رقم کریں گے تاریخ یا پھر لہرائے گا مودی کا پرچم؟

     دن کے اختتام کے ساتھ ہی آج کرناٹک میں انتخابی تشہیر بھی ختم ہوگئی ہے۔ اس انتخابی تشہیر میں وزیراعظم نریندر مودی،کانگریس صدر راہل گاندھی، وزیراعلیٰ سدارمیا اور جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیو گوڑا نے جم کر حصہ لیا۔ دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ اس میں سدارمیا تاریخ رقم کرتے ہیں یا پھر مودی کا پرچم لہرائے گا؟

    دن کے اختتام کے ساتھ ہی آج کرناٹک میں انتخابی تشہیر بھی ختم ہوگئی ہے۔ اس انتخابی تشہیر میں وزیراعظم نریندر مودی،کانگریس صدر راہل گاندھی، وزیراعلیٰ سدارمیا اور جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیو گوڑا نے جم کر حصہ لیا۔ دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ اس میں سدارمیا تاریخ رقم کرتے ہیں یا پھر مودی کا پرچم لہرائے گا؟

    دن کے اختتام کے ساتھ ہی آج کرناٹک میں انتخابی تشہیر بھی ختم ہوگئی ہے۔ اس انتخابی تشہیر میں وزیراعظم نریندر مودی،کانگریس صدر راہل گاندھی، وزیراعلیٰ سدارمیا اور جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیو گوڑا نے جم کر حصہ لیا۔ دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ اس میں سدارمیا تاریخ رقم کرتے ہیں یا پھر مودی کا پرچم لہرائے گا؟

    • Share this:
      میسور: دن کے اختتام کے ساتھ ہی آج کرناٹک میں انتخابی تشہیر بھی ختم ہوگئی ہے۔ اس انتخابی تشہیر میں وزیراعظم نریندر مودی،کانگریس صدر راہل گاندھی، وزیراعلیٰ سدارمیا اور جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیو گوڑا نے جم کر حصہ لیا۔

      تشہیر میں کئی مقامی اور قومی معاملے اٹھائے گئے، جہاں اپنے پانچ سال کے دوراقتدار کا بچاو کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے مودی کی قیادت میں ہورہی بی جے پی کی تشہیر کو غیراخلاقی، گھٹیا، پھوٹ ڈالنے والا اور فرقہ وارانہ سیاست بتایا۔ وہیں بی جے پی نے کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے ان کی تشہیر کو بے سمت اور پھوٹ ڈالنے والا بتایا۔ وہیں اس تشہیر میں تیسرے کھلاڑی جے ڈی ایس نے بھی سدارامیا کے خلاف اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ سدارمیا نے الزام لگایا تھا کہ جے ڈی ایس نے بی جے پی سے خفیہ سمجھوتہ کرلیا ہے۔

      سدارمیا نے اس بات کا خود اعتراف کیا ہے کہ 1985 سے کوئی بھی موجودہ وزیراعلیٰ دوبارہ منتخب نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ کرناٹ کے لوگ 12 مئی کو اس کا جواب دیں گے اور وہ یہ بخوبی کریں گے۔ مجھے اکثر بتایا جاتا ہے کہ تاریخ ہمارے خلاف ہے کیونکہ طویل وقت سے کرناٹک میں کوئی بھی موجودہ حکومت پھر سے نہیں منتخب ہوئی ہے۔ لیکن ہم یہاں تاریخ رقم کرنے کے لئے، اسے ماننے کے لئے نہیں۔

       

      جہاں سدارمیا نے کانگریس کی تشہیر کی قیادت کی وہیں ایسا پہلی بار ہوا کہ بی جے پی کی  تشہیروزیر اعظم مودی نے سنبھالی بلکہ اس کے وزیراعلیٰ عہدہ کے امیدوار نے نہیں۔ حالانکہ راہل نے کرناٹک میں تقریباً 100 دنوں تک تشہیر کی اور تقریباً 100 چھوٹی بڑی ریلیاں، لیکن اس تشہیر کا اہم چہرہ ہمیشہ سدارمیا ہی رہے۔

      کرناٹک کے سبھی 30 اضلاع کا دورہ کرکے راہل نے تاریخ رقم کر دی ہے اور اس سے ان کی شبیہ بھی بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے تقریباً 30 مندروں اور مٹھوں کا بھی دورہ کیا، جس میں سدارمیا نے بھی ان کا ساتھ دیا اور دعوی کیا کہ وہ بی جے پی کے لوگوں سے اچھے ہندو ہیں۔

      یدی یورپا کی قیادت میں چل رہی تشہیر میں رفتار تب آئی جب وزیراعظم مودی اس میں شامل ہوئے۔ مودی نے 10 دنوں میں تقریباً 21 ریلیوں کو خطاب کیا اور لوگوں سے بات کرنے کے لئےاپنے نمو ایپ کا بھی استعمال کیا۔ اس تشہیر میں انہوں نے بدعنوانی کو بڑا موضوع بنایا، اس کے علاوہ انہوں نے کانگریس کے اوپر خاندان کی سیاست کرنے کے مسئلے کو بھی اٹھانے کی کوشش کی۔ اس الیکشن میں ا ترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اسٹار پرچارک رہے۔ اپنی تشہیر کے دوران انہوں نے جم کر رام جنم بھوتی اور ہندو واد کا معاملہ اٹھایا۔

      وہیں اس تشہیر میں قومی لیڈروں کے پیچھے رہے بی جے پی کے وزیراعلیٰ عہدہ کے امیدوار یدی یورپا الیکشن جیتنے کی امید میں ہیں۔ انہوں نے نیوز 18 سے کہا کہ وہ اس ماہ کی 17 تاریخ کو وزیراعلیٰ عہدہ کا حلف لیں گے۔ حالانکہ ان کے اس بیان کو دن میں خواب دیکھنے والا بتاکر سدارمیا نے خارج کردیا۔

      کرناٹک الیکشن میں کنڑ زبان کو فوقیت، ریاست کے لئے الگ جھنڈا، ہندی زبان کو لاگو کیاجانا، لنگایت طبقہ کے لئے الگ مذہب جیسے معاملوں کو پہلی بار اٹھایا گیا۔ حالانکہ یہ موضوع کرناٹک میں کانگریس کے لئے ووٹ بنتے ہیں یا نہیں یہ 12 مئی کو پتہ چلے گا۔ دوسری طرف بی جے پی ایسا سمجھ رہی ہے کہ مودی ان کی جیت یقینی بنائیں گے۔ وہیں جے ڈی ایس خود کو کنگ میکر کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

       

       

      کرناٹک میں جیت کو لے کر پری پول سروے بھی الگ الگ نتائج بتارہے ہیں۔ کچھ نے کانگریس کے اکثریت کی بات کہی ہے، کچھ نے سہ رخی اسمبلی کی بات کہی ہے تو وہیں دیگر نے بی جے پی کے سرکار بنانے کی بات کہی ہے۔

      سیاسی ماہرین ڈاکٹر سندیپ شاستری کا ماننا ہے کہ کانگریس ابھی بھی سب سے آگے ہے اور الیکشن میں اکثریت حاصل کرے گی یا پھر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔

      واضح رہے کہ کرناٹک کے 224 سیٹوں میں سے 223 سیٹوں پر ہفتہ کو الیکشن ہوگا۔ جیانگر اسمبلی سیٹ کا الیکشن بی جے پی امیدوار اور موجودہ ممبراسمبلی بی این وجے کمار کی موت ہونے کے سبب منسوخ کردیا گیاہے۔

      ڈی پی ستیش کی رپورٹ 

       

       
      First published: