உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Telangana میں نکسلیوں سے انکاونٹر ، چھ ماونوازوں کی لاشیں ابھی تک برآمد

    Breaking News: تلنگانہ میں نکسلیوں سے انکاونٹر ، چھ ماونوازوں کی لاشیں ابھی تک برآمد

    Breaking News: تلنگانہ میں نکسلیوں سے انکاونٹر ، چھ ماونوازوں کی لاشیں ابھی تک برآمد

    Encounter In Bhadradri Kothagudem: تلنگانہ کے بھدرادری کوٹھاگودام (Bhadradri Kothagudem )ضلع کے پیسالا پاڈو جنگلاتی علاقہ میں پیر علی الصبح سیکورٹی فورسیز کے ساتھ گولہ باری میں چار خواتین سمیت کم سے کم چھ نکسلی مارے گئے ۔

    • Share this:
      حیدرآباد : تلنگانہ کے بھدرادری کوٹھاگودام (Bhadradri Kothagudem )ضلع کے پیسلپاڈو جنگلاتی علاقہ میں پیر علی الصبح سیکورٹی فورسیز کے ساتھ گولہ باری میں چار خواتین سمیت کم سے کم چھ نکسلی مارے گئے ۔ علاقہ میں تلاشی مہم جاری ہے ۔ بھدرادری کوٹھاگودام کے ایس پی سنیل دت نے بتایا کہ تلنگانہ گرے ہاونڈرس اور نکسلیوں کے درمیان انکاونٹر ہوا ۔ ایس پی نے بتایا کہ تلنگانہ اور چھتیس گڑھ کے سرحدی علاقہ میں کسٹارام پی ایس سرحد کے جنگلاتی علاقہ میں انکاونٹر میں چھ نکسلی مارے گئے ۔ آپریشن ابھی بھی جاری ہے ۔ ہم حالات کی نگرانی کررہے ہیں ۔

      بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ صبح ساڑھے چھ سے سات بجے کے قریب پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ماؤنواز سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور تلاشی مہم شروع کی گئی ۔ یہ بین ریاستی مشترکہ آپریشن تلنگانہ کی گرے ہاؤنڈ فورسز نے انجام دیا۔ چھتیس گڑھ کے ڈی آر جی اور سی آر پی ایف فورسز نے مدد فراہم کی تھی ۔ پولیس نے بتایا کہ ماؤنوازوں کا تعلق چیرلا ایریا کمیٹی سے تھا اور مرنے والوں میں ایک سینئر لیڈر بھی شامل ہو سکتا ہے۔

      سبھی نکسلیوں کی شناخت باقی

      ایس پی نے کہا کہ انہیں ماؤنوازوں کے ایک گروپ کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ پیسلپاڈو علاقے میں کیمپ لگا ہوا ہے۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق ایس پی نے کہا کہ 'اطلاع ملی تھی کہ وہ پولیس پر حملہ کرنے کے لئے آئی ای ڈی تیار کر رہے تھے۔ چھتیس گڑھ اور تلنگانہ گرے ہاؤنڈس کی طرف سے ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا اور ماؤنوازوں کے گروپ کے ساتھ انکاؤنٹر صبح 6:30 بجے سے صبح 7 بجے کے درمیان ہوا ۔ کم از کم چھ ماؤنواز مارے گئے ہیں۔ ان کی شناخت ابھی باقی ہے۔

      رپورٹ کے مطابق بستر کے آئی جی پی سندرراج نے کہا کہ آپریشن مخصوص انٹیلی جنس کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اہم کارروائی تلنگانہ فورسز نے کی تھی ۔ سی آر پی ایف اور ڈی آر جی کے ہمارے جوانوں نے کسٹارام کے علاقے میں مدد کی ۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: