உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انسان کیا کھانا چاہے گا ، کیا نہ کھانا چاہے گا یہ اس کا اختیار تمیزی ہے

    گلبرگہ۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے بیف والے بیان پر کرناٹک میں خوب سیاست ہو رہی ہے۔

    گلبرگہ۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے بیف والے بیان پر کرناٹک میں خوب سیاست ہو رہی ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      گلبرگہ۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے بیف والے بیان پر  کرناٹک میں  خوب سیاست ہو رہی ہے۔   بی جے پی سمیت دائیں بازو کی تنظیمیں وزیر اعلیٰ کے بیان کو جذبات کو مجروح کر نے والا قرار دے رہی ہیں۔  سدرامیا کے بیان پر ریاست میں کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے تو  بی جے پی کے ایک کارپوریٹر نے سدرامیا کا سر قلم کرنے کی دھمکی تک دے ڈالی۔اس بات سے بی جے پی نے تو پلہ جھاڑ لیا پر بیان سے ماحول کشیدہ ہو گیا۔


         بہار انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں جس میں بی جے پی کو کراری شکست کا منہ دیکھنا پڑا  ہے۔ بیف کا موضوع بہار الیکشن  سے قبل اور اسکے دوران ملک بھر میں بار بار گونجتا رہا۔   کرناٹک میں تو سیاسی اتھل پتھل نہیں ہے اسکے باوجود یہاں پر بھی بیف  کےموضوع  کو بہار سے امپورٹ کر کے لایا گیا۔  سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ سدرامیا کا بیان تو ایک مفرو ضے پر مبنی ہے۔  سدرامیا کا پہلا جملہ ہی  فعل کی نفی کرتا ہے اور  جملے کا دوسرا حصہ  مفروضے پر قائم ہے۔ اب اس پر خوب ہنگامہ ہو رہا ہے۔


         دانشور اور سنجیدہ طبقہ اس پورے معاملے کو ایک تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہبی جنونیت، جمہوریت کیلئے  خطرہ بنتی جا رہی ہے اور مذہب و عقید ت اور وطن پرستی کا سہارا لے کر شدت پسند جمہوریت کو ہی گرانے کے درپہ نظر آتے ہیں۔ لیکن عوام بہت سنجیدہ ہے۔ وہ سب سمجھ رہی ہے۔


        سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کی دفعہ20  انسان کے بنیادی حقو ق کی صراحت کر تی ہے۔ جس میں واضح طور پر  رائٹ ٹو ایٹ کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک سماج کی غذائی عادت کو بدلنے کیلئے صرف اسلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ کیوں وہ اقلیت  میں ہے۔  آئین کی  دفعہ یہ بھی کہتی ہے کہ  کسی آزاد انسان  کی  غذا کیا ہوگی وہ کیا کھانا چاہے گا کیا نہ کھانا چاہے گا اسکا اختیار تمیزی ہے۔ اس کے اختیار کو کسی بھی صورت میں چھینا نہیں جا سکتا۔  ماہرین  سدرامیا کے  بیان کو اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔  دانشوروں کا کہنا ہے کہ سدرامیا نے اپنے اس  بیان میں آئین کی دی ہوئی آزادی  رائٹ ٹو اسپیک اور رائٹ ٹو ایٹ کا استعمال کیا ہے۔ اس  طرح سے انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔

      First published: