ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

لاک ڈاؤن میں محبت کی انوکھی مثال، بیوی نے 6 کیلو میٹر پیدل چل کر اپنے شوہر کیلئے کیا کچھ ایسا ، رہ جائیں گے حیران

  • Share this:
لاک ڈاؤن میں محبت کی انوکھی مثال، بیوی نے 6 کیلو میٹر پیدل چل کر اپنے شوہر کیلئے کیا کچھ ایسا ، رہ جائیں گے حیران

کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کرناٹک میں اس ماہ سے ہر اتوار کو لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ لیا گیاہے۔ اس کڑی کا آج پہلا لاک ڈاؤن تھا۔ سنیچر کی رات 8 بجے سے  پیر کی صبح 5 بجے تک نافذ یہ لاک ڈاؤن مجموعی طور پر کامیاب دکھائی دیا۔ بنگلورو اور ریاست کے دیگر شہروں میں لاک ڈاؤن کی چند ایک خلاف ورزیوں کو چھوڑ کر لوگوں نے بیداری کا ثبوت پیش  کیا ہے۔ گھروں میں ہی رہ اتوار کا دن گزارا ہے، پولیس اور انتظامیہ سے تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوسری جانب پولیس نے کورونا کے ڈر اور خوف کے درمیان لاک ڈاؤن کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کی کوشش کی۔ کرفیو کے باوجود غیر ضروری طور پر گاڑیوں میں سوار ہو کر گھومنے والوں پر جرمانہ عائد کیا۔ 33 گھنٹوں پر مشتمل لاک ڈاؤن کے شروع ہونے سے قبل ہی پولیس نے اپنے اپنے علاقوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ عوام سے گھروں میں ہی رہنے کی اپیل تھی۔ شہر کی بڑی سڑکوں پر بریکیڈ ڈالتے ہوئے سخت بندوبست کیا گیا۔

اس لاک ڈاؤن کے دوران ریاست کے شمالی شہر بلگام میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل علی خان کی بیوی نورجہان کی خدمت قابل ستائش مثال دیکھنے کو ملی۔ لاک ڈاؤن کے سبب چونکہ ہوٹل، چائے پانی کی دکانیں سب کچھ بند تھیں۔ ٹرافک ہیڈ کانسٹیبل علی خان شہر کے این ڈی کوٹے سرکل میں آج صبح سویرے سے ہی خدمت پر مامور تھے۔ علی خان کی بیوی نورجہاں اے پی ایم سی یارڈ میں موجود اپنے گھر سے توشہ کا ڈبہ لیکر 6 کیلو میٹر کا طویل فاصلہ پیدل چلتے ہوئے این ڈی کوٹے سرکل پہنچی اور اپنے شوہر کو لنچ باکس دیا۔



کورونا کے خوف کے درمیان نورجہاں برقعہ پہن کر، اکیلی گھر سے نکلیں، پیدل چل کر ڈیوٹی پر موجود اپنے خاوند کے ہاں پہونچی اور انہیں کھانہ کا ڈبہ دیا اور واپس پیدل چلتے ہوئے اپنے گھر چلی گئیں۔بیوی کی اس فکر، تڑپ اور خدمت پر علی خان کافی خوش ہوئے۔ علی خان کے دیگر ساتھیوں نے بھی ایک بیوی کی  اپنے شوہر کے تئیں محبت اور خدمت کی ستائش کی۔ کرناٹک میں کورونا کی وبا نے پولیس اہلکاروں اور انکے خاندانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔

ریاست میں کئی پولیس اہلکار کورونا کی وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔ چند ایک پولیس اہلکار اپنی جان تک گنوا بیٹھے ہیں۔ نظم و نسق کیلئے گھر دار چھوڑ کر دن اور رات، سردی،گرمی، بارش کی پرواہ کئے بغیر پولیس اہلکاروں اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انکی اس خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت نے انہیں کورونا وارئرس قرار دیا ہے۔ ڈاکٹروں، نرسوں کے ساتھ  پولیس اہلکاروں کی بھی خدمات کی ستائش کی جارہی ہے۔ پولیس اہلکاروں کو انکے اہل خانہ کا بھرپور تعاون حاصل ہو جائے تو کورونا کے ان بہادروں کے حوصلے مزید بلند ہو سکتے ہیں۔ پولیس کانسٹیبل علی خان کی بیوی نور جہان اس کی ایک مثال بنی ہوئی ہیں۔ کورونا کی مہلک بیماری کے درمیان ڈیوٹی کرنے والے علی خان کو انکی بیوی نے پہلی مرتبہ نہیں اس سے قبل بھی پیدل چل کر کھانہ پہنچایا ہے۔

عام طور پر گھریلو خواتین کی ذمہ داریوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا پھر انہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔ لیکن یہ وہ خدمت ہوتی ہے جو روزی روٹی کیلئے دوڑ دھوپ کرنے والے مرد حضرات کی ہمت کو بڑھاتی ہے اور انہیں کامیابی عطا کرتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک خاتون کا ہاتھ رہتا ہے۔
First published: Jul 05, 2020 11:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading