ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ایکسکلوزیو : کرناٹک میں اقلیتی محکموں کی عجیب و غریب صورتحال ، کہیں چیئرمین ہیں تو ممبران نہیں اور کہیں ممبران ہیں تو چیئرمین نہیں

21 جنوری کو ریاستی حکومت نے 16 ارکان پر مشتمل حج کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ کمیٹی قائم ہوئے 5 ماہ مکمل ہوچکے ہیں ، لیکن اب تک چیئرمین کا انتخاب عمل میں نہیں آیا ہے ۔

  • Share this:
ایکسکلوزیو : کرناٹک میں اقلیتی محکموں کی عجیب و غریب صورتحال ، کہیں چیئرمین ہیں تو ممبران نہیں اور کہیں ممبران ہیں تو چیئرمین نہیں
21 جنوری کو ریاستی حکومت نے 16 ارکان پر مشتمل حج کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ کمیٹی قائم ہوئے 5 ماہ مکمل ہوچکے ہیں ، لیکن اب تک چیئرمین کا انتخاب عمل میں نہیں آیا ہے ۔

کرناٹک میں بی ایس یدی یورپا کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہے ۔ اس حکومت نے اپنے اقتدار کے 11 مہینے مکمل کرلئے ہیں ۔ اس دوران 2 سے 3 مرتبہ کابینہ کی توسیع ہوئی ہے۔  اسمبلی کے ضمنی انتخابات ، راجیہ سبھا کے انتخابات اور قانون ساز کونسل کے انتخابات عمل میں آئے ہیں ۔ مختلف محکموں کے بورڈ ، کارپوریشن ، کمیشن ، اکیڈمیوں کیلئے نامزدگیاں اور  تقرریاں بھی ہوئی ہیں ۔ اس طرح حکومت کے کئی کام انجام پائے ہیں ۔ لیکن اقلیتی محکمہ کا حال بدحال دکھائی دے رہا ہے ۔


اقلیتی محکموں میں کہیں چیئرمین ہیں تو ممبران نہیں اور کہیں ممبران ہیں تو چیئرمین نہیں ۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں کرناٹک حج کمیٹی کی ۔ 21 جنوری کو ریاستی حکومت نے 16 ارکان پر مشتمل حج کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ کمیٹی قائم ہوئے  5 ماہ مکمل ہوچکے ہیں ، لیکن اب تک چیئرمین کا انتخاب عمل میں نہیں آیا ہے ۔ دوسری جانب ریاستی اقلیتی کمیشن اور اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن میں چیئرمین موجود ہیں ، لیکن ارکان کی نامزدگی اب تک نہیں ہوئی ہے ۔ اقلیتی کمیشن کیلئے 8 ارکان اور کے ایم ڈی سی کیلئے 6 ڈائریکٹروں کو نامزد کیا جانا ہے ۔


یدی یورپا حکومت پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔
یدی یورپا حکومت پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔


وہیں اگر اردو اکیڈمی کی بات کی جائے ، تو یہاں نہ چیئرمین ہیں اور نہ ہی ممبران ۔ وزارت اقلیتی بہبود سے کئی مرتبہ درخواست کے باوجود اردو اکیڈمی کی تشکیل نہیں ہوپائی ہے ۔ اردو اکیڈمی کیلئے چیئرمین سمیت 11 سے 16 ارکان کی نامزدگی ہونی باقی ہے ۔ علاوہ ازیں وقف سے وابستہ دو اور اداروں میں ممبروں کی تقرری نہیں ہوئی ہے ۔ کرناٹک اسٹیٹ وقف فاونڈیشن فار ویمن ڈیولپمنٹ اور کرناٹک اسٹیٹ وقف کونسل کیلئے حکومت کو 6 -6 ارکان نامزد کرنے ہیں ۔ ان دونوں اداروں کے چیئرمین وزیر حج اور اوقاف پربھو چوہان ہیں ۔ لیکن ان اداروں کیلئے اب تک ارکان کی نامزدگی کا عمل میں نہ آنا خود وزیر موصوف کی سنجیدگی پر سوالات کھڑے کررہا ہے۔

اقلیتی محکمہ کی اس عجیب و غریب صورتحال کیلئے بی جے پی کے لیڈر کورونا وائرس کو ذمہ دار ٹہرارہے ہیں ۔ بی جے پی اقلیتی مورچہ اور ریاستی اقلیتی کمیشن کے صدر عبد العظیم نے کہا کہ جہاں جہاں بھی عہدے خالی ہیں ، وہاں نامزدگیوں کیلئے فہرست تیار ہے ۔ لیکن کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کے بعد حکومت کی پوری توجہ اس مہلک بیماری پر قابو پانے کی جانب ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے ایم ایل اے این اے حارث کہتے ہیں کہ پچھلے تین ماہ سے کورونا نے ریاست میں سر اٹھایا ہے ، لیکن ریاست کی بی جے پی حکومت اپنے اقتدار کا ایک سال مکمل کررہی ہے۔ حکومت نے سالانہ بجٹ میں اقلیتوں کے فنڈ میں بھاری کٹوتی کیوں کی ؟ اقلیتی طبقہ کے نمائندہ کو وزارت میں جگہ کیوں نہیں دی ؟ اقلیتوں کی کئی فلاحی اسکیموں کو کیوں بند کیا ؟ این اے حارث کہتے ہیں کہ اقلیتوں کے تئیں حکومت سوتیلا رویہ اختیار کئے ہوئے  ہے ۔
First published: Jun 28, 2020 11:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading