உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سب سے بڑی پارٹی کو بے وجہ فائدہ نہیں دے سکتے گورنر: ماہرین

    بنگلورو: کیا گورنر کے پاس معلق اسمبلی میں وزیراعلیٰ چننے کا اختیار ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ گورنر کے پاس یہ اختیار ہے۔

    بنگلورو: کیا گورنر کے پاس معلق اسمبلی میں وزیراعلیٰ چننے کا اختیار ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ گورنر کے پاس یہ اختیار ہے۔

    بنگلورو: کیا گورنر کے پاس معلق اسمبلی میں وزیراعلیٰ چننے کا اختیار ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ گورنر کے پاس یہ اختیار ہے۔

    • Share this:
      بنگلورو: کیا گورنر کے پاس معلق اسمبلی میں وزیراعلیٰ چننے کا اختیار ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ گورنر کے پاس یہ اختیار ہے۔ آرٹیکل 164(1) کے مطابق گورنر وزیراعلیٰ کی تقرری کرسکتے ہیں اور وزیراعلیٰ کے مشورے پر وہ دیگر وزرا کی تقرری کرسکتے ہیں۔ آرٹیکل 164 میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ وہ یہ کیسے، کیوں اور کن حالات میں کریں گے۔

      لیکن آرٹیکل  164(2)کے ایک پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ گورنر کے ذریعہ وزیر منتخب کئے جانے میں کلیکٹیو اسمبلی کا تعاون ہونا چاہئے۔ آسان الفاظ میں کہیں کہ کلیکٹیو اسمبلی کا مطلب ہے کہ ایوان کی اکثریت۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیراعلیٰ یا دیگر وزرا کی تقرری ایوان کی اکثریت کے احکامات پر ہونی چاہئے۔

      اس بنیاد پر یہ سوال نہیں اٹھتا کہ گورنر روایتی طریقے سے کام کررہے ہیں یا نہیں۔ انہیں آئینی طریقے سے چلانا ہوگا، جب وہ حکومت قائم کریں تو انہیں دیکھنا ہوگا کہ پارٹی آئینی اکثریت کو پورا کررہی ہے یا نہیں۔

       

       

      جب کوئی لیڈر گورنر کے پاس آتا ہے تو ان کے ممبران اسمبلی کی تعداد دیکھتے ہیں اور اس کے بعد ہی تقرر کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنا ہوتا ہے، اکثریت سب سے ضروری ہے۔

      لیکن آی یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ معلق اسمبلی ہوگی اور اکثر نہیں ہوگی؟ گورنر کو یہ یقینی کرنا ہوتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی اکثریت ثابت کرسکتی یا نہیں۔ پھر چاہے اس کے لئے کسی پارٹی کے ساتھ اتحاد ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہ سبھی پر لاگو ہوتا ہے، پھر چاہے وہ واحد بڑی پارٹی ہو یا دوسرے نمبر کی پارٹی۔

      پارٹی اکثریت ثابت کرپائے گی یا نہیں، گورنر کو خود اس کا اطمینان ہونا چاہئے۔ ایسا نہیں ہے کہ گورنر کسی کو بھی وزیراعلیٰ بنادے اور اسے بعد میں اکثریت ثابت کرنے کو کہے۔ آئین اسے لے کر کافی واضح ہے کہ جب بھی کسی پارٹی کو حکومت بنانے کا کنٹرول ملے، وہ اکثریت ثابت کرپائے۔ اس سے متعلق آرٹیکل 164 کافی واضح ہے اور اس آئینی نظام کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔

      حالانکہ اس معاملے میں آئینی ماہرین کے درمیان بھی کافی کنفیوزن ہے۔ کسی پارٹی کی مرضی سے آئین کو تبدیل کرنایا توڑا نہیں جاسکتاہے۔

      حالانکہ اس معاملے میں آئینی ماہرین کے درمیان بھی کافی کنفیوزن ہے۔ اگر گورنرکسی کو وزیراعلیٰ مقرر کرتا ہے اور وہ اکثریت ثابت نہیں کر پاتے تو بھی کسی دیگر پارٹی سے اتحاد کیاجاسکتا ہے۔ یہ آئینی طور پر درست ہے۔
      First published: