உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Secunderabad Club: سکندرآبادکلب میں آتشزدگی سےتاریخی عمارت تباہ، 20 کروڑ کے نقصان کا خدشہ

    تصویر ٹوئٹر: ANI

    تصویر ٹوئٹر: ANI

    سکندرآباد کلب 1878 میں برطانوی دور حکومت میں خصوصی طور پر فوجی حکام کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ خصوصی کلب 30 ایکڑ کے وسیع کیمپس میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے 5000 اراکین ہیں۔

    • Share this:
      Secunderabad Club Fire: ایک المناک واقعہ اتوار بروز 16 جنوری 2022 کی صبح پیش آیا۔ حیدرآباد میں واقع مشہور سکندرآباد کلب میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کی وجہ سے تاریخی ورثے کی عمارت تباہ ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق آگ لگنے سے مرکزی دروازہ جل کر خاکستر ہوگیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق املاک کے 20 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

      دکن آرکائیو بلاک کے مطابق سکندرآباد کلب، حیدرآباد میں سب سے پرانا کلب ہے۔ یہ برطانوی ہندوستان میں چھاؤنی کلب کی طرز پر قائم کیا گیا تھا، جسے 26 اپریل 1878 کو کھولا گیا تھا۔ اس کا مقصد بنیادی طور پر علاقے کے فوجی افسران اور ریلوے اہلکاروں کے لیے تھا۔ ابتدائی طور پر یہ سکندرآباد پبلک روم کہلاتا تھا، اس کا نام 1888 میں بدل کر یونائیٹڈ سروسز کلب رکھا گیا، پھر بعد میں یہ سکندرآباد کلب کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ہل اسٹیشن کے انداز میں شاندار عمارت ہے۔

      سالار جنگ اول کی جانب سے بڑا عطیہ:

      دکن آرکائیو انسٹاگرام نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ اس کلب میں ایک بال روم، ایک جم خانہ اور ایک لائبریری ہے۔ سالار جنگ اول سر میر تراب علی خان نے کلب کو بڑی رقم عطیہ کی اور حیدرآبادی رائیسوں کی رکنیت کو یقینی بنایا گیا، تاکہ یہ صرف انگریزوں کا کلب نہ بن جائے۔ سکندرآباد کلب کا قیام 1878 میں عمل میں آیا۔ اس کی رکنیت ابتدائی طور پر آس پاس کے برطانوی حکومت کی خدمت میں معمور سول اور فوجی افسران تک محدود تھی۔ دھیرے دھیرے ہندوستانی شہزادوں اور بڑے زمینداروں کو رکن کے طور پر اجازت مل گئی۔

      دکن آرکائیو بلاک کے مطابق یہ کلب اپنی موجودہ عمارت میں اس وقت منتقل ہوا جب سالار جنگ اول نے سکندرآباد میں واقع اپنا شکار کا لاج سکندرآباد کلب کو عطیہ کیا تھا۔ سال 1947 تک کلب کے صرف برطانوی صدور تھے اور چند اعلیٰ عہدے داروں کو رکنیت کی پیشکش کی گئی تھی اور وہ سکندرآباد کلب کے رکن تھے۔ اس کے پہلے (ہندوستانی) صدر حیدرآباد آرمی کے میجر جنرل ایل ایڈروس (Major General El Edross) تھے۔ 16 جنوری 2022 کی صبح سکندرآباد کلب کی قدیم ترین عمارت میں آگ لگ گئی اور مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا، جس سے برما ساگوان میں بنایا گیا ایک عمدہ کالونیڈ اور چھت تباہ ہو گئی۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by The Deccan Archive (@deccanarchive)





      سکندرآباد کلب کو صبح 3 بجے کے قریب آگ نے لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی فائر ریسکیو کا عملہ موقع پر پہنچ گیا۔


      آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 10 گاڑیاں طلب کی گئیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ آگ بہت زیادہ تھی کہ آگ بجھانے کے عملے کو آگ پر قابو پانے میں 3 گھنٹے لگے۔

      واضح رہے کہ سکندرآباد کلب 1878 میں برطانوی دور حکومت میں خصوصی طور پر فوجی حکام کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ خصوصی کلب 30 ایکڑ کے وسیع کیمپس میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے 5000 اراکین ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سکندرآباد کلب میں تقریباً 300 عملہ کام کر رہا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: