ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تلنگانہ میں پھولوں کے تہوار بتکماں کا نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ اختتام، عالمی سطح پر پہچان دلانے میں کویتا کا اہم رول

بتکماں موسم برسات کے دوران اکتوبر اور نومبر میں منایا جاتا ہے ۔ اس تہوار کی خاصیت یہ ہے کہ یہ نہ صرف یہاں کی ثقافت بلکہ قدرتی ماحول کی نمائندگی بھی کرتا ہے ۔ ہر سال جیسے ہی بتکماں کی تاریخ طے ہوتی ہے ، شادی شدہ خواتین اپنے مائیکے آجاتی ہیں اور یہا ں مسلسل 9 دن ہر شام گیندے اور دوسرے پھولوں کو تانبہ کی تھال میں ترتیب دیا جاتا ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 27, 2020 04:46 PM IST
  • Share this:
تلنگانہ میں پھولوں کے تہوار بتکماں کا نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ اختتام، عالمی سطح پر پہچان دلانے میں کویتا کا اہم رول
تلنگانہ میں پھولوں کے تہوار بتکماں کا نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ اختتام

تلنگانہ میں پھولوں کے تہوار بتکماں کا نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ اختتام عمل میں آیا ۔ یہ تہوار جو تلنگانہ کی تہذیب، ثقاقت اور روایات کا حصہ ہے ، کے احیا کے لئے تلنگانہ جاگروتی تنظیم کی صدر کے کویتا کی جانب سے بڑے پیمانہ پر مساعی کی گئی ہیں ۔ کویتا ، تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی دختر ہیں ۔ ایک طرف جہاں اس تہوار کے ذریعہ ریاست کی کھوئی ہوئی عظیم ثقافتی روایات اور ورثہ کو زندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، وہیں دوسری طرف بتکماں ساڑیوں کے ذریعہ ریاست کے راجنا سرسلہ کے بنکروں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔


سرسلہ میں دیسی بنکر معاشی طورپر کافی پریشان تھے ۔ تاہم ان کو ان ساڑیوں کی تیاری کے آرڈرس دیتے ہوئے ان کے زمانہ قدیم سے جاری روزگار کو بچانے کے لئے بھی کوششیں کی گئی ہیں ، جو ثمر آور ثابت ہوئیں ۔ یہ علاقہ بنکروں کا مرکز ہے ، جہاں ہر گھر میں بنکر ساڑیوں کی تیاری کا کام کرتے ہیں ۔ ان کی جانب سے تیار کردہ ساڑیوں کو ریاست کی خواتین میں مفت تقسیم کیا گیا ۔ بتکماں تہوار جس کو متحدہ اے پی میں نظرانداز کیاجاتا رہا ہے کا بڑے پیمانہ پر احیا تلنگانہ کو ریاست کا درجہ دینے کے بعد کیا گیا ۔


بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں کاکتیہ دور حکومت سے خواتین اور لڑکیاں یہ تہوار مناتی آرہی ہیں ، جس کا مقصد اپنے شوہروں کی سلامتی کے لئے نیک تمنائیں ہیں جو جنگ میں مصروف ہوتے تھے ۔ اس تہوار کو مقبول بنانے میں کے کویتا کا اہم رول رہا ہے ۔ پھولوں کی خوشبو بھرے ماحول میں تالیوں کی تاپ پر پھولوں سے سجی بڑی تھال کے اطراگ گھوم کر خواتین تلگو زبان میں گیت گاتی ہیں ۔ اگرچہ کہ مختلف اقوام اور دنیا کے مختلف خطوں میں جشن اور تہوار کے مواقع پر پھولوں کا استعمال ہوتا ہے ، لیکن جنوبی ہند کی اس ریاست کے بتکماں تہوار میں جس طرح پھولوں کو مرکزی اہمیت دی جاتی ہے ویسا شاید ہی کہیں دیکھنے کو ملتا ہے ۔



بتکماں موسم برسات کے دوران اکتوبر اور نومبر میں منایا جاتا ہے ۔ اس تہوار کی خاصیت یہ ہے کہ یہ نہ صرف یہاں کی ثقافت بلکہ قدرتی ماحول کی نمائندگی بھی کرتا ہے ۔ ہر سال جیسے ہی بتکماں کی تاریخ طے ہوتی ہے ، شادی شدہ خواتین اپنے مائیکے آجاتی ہیں اور یہا ں مسلسل 9 دن ہر شام گیندے اور دوسرے پھولوں کو تانبہ کی تھال میں ترتیب دیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اس طرح بنائے گئے ان مخصوص گلدستوں کو گھر کے آنگن کے بیچوں بیچ رکھا جاتا ہے ۔ بعد ازاں خواتین اس کے اطراف ہلکا رقص کرتے ہوئے تالیوں کی تھاپ پر ایسے گیت گاتی ہیں ، جس میں زندگی ، ماحول اور موسم بہار کا ذکر ہوتا ہے ۔ سورج غروب ہونے سے پہلے ان گلدستوں کو قریب میں واقع تالاب یا کنٹے میں بہا دیا جاتا ہے ۔

تلنگانہ کی خواتین اور یہاں کے کلچر کی اہم نمائندگی کرنے والا یہ تہوار اب عالمی سطح پر بھی اپنی پہچان بنا رہا ہے ۔ اس کو مقبول بنانے کا سہرا تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والی خاتون رہنما کے کویتا کے سر جاتا ہے ، جو نظام آباد کی سابق رکن پارلیمنٹ بھی ہیں ۔ تلنگانہ کے قیام سے پہلے مختلف سیاسی وجوہات کی بنا پر بتکماں کو اس کا مستحقہ مقام نہیں مل پایا تھا ۔ تاہم تلنگانہ تحریک کے دوران یہاں کی تہذیب کے بارے میں عوام میں شعور کو بیدار کرنے کیلئے تلنگانہ جاگروتی تنظیم کا قیام عمل میں لا یا گیا ، جس کی صدر کویتا نے تلنگانہ کی خواتین کو اس تہوار کو بڑے پیمانہ پر منانے کے لئے راغب کیا ۔


تلنگانہ کے قیام سے پہلے بتکماں کو عوامی مقامات پر اجتماعی طور پر منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی ۔ تاہم تلنگانہ تحریک کے دوران تلنگانہ جاگروتی نے ہائی کورٹ سے رجوع ہو کر اپنی ثقافت کے مظاہرہ کا حق حاصل کیا ۔ کویتا کی کوششوں سے حیدرآباد میں حسین ساگر ٹینک بنڈ پر اجتماعی طور پر بتکما ں کا انعقاد کیا جانے لگا ۔ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد اس کو ریاست تلنگانہ کے تہوار کا درجہ دیا گیا ۔ سال 2017 میں حیدرآباد کے قلب میں واقع لال بہادر اسٹیڈیم میں منعقدہ بتکماں کی تقریب میں 9292 خواتین نے روایتی طریقہ سے گیت گا کر رقص کا مظاہرہ کیا ۔ اس موقع کو گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا ۔ اس تقریب میں معروف ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا اور ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی دوسری معروف خواتین نے بھی شرکت کی ۔

اب بتکما نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا میں جہاں بھی تلنگانہ کے لوگ مقیم ہیں ، وہاں منایا جانے لگا ہے ۔ جاریہ سال کووڈ پروٹوکول کی وجہ سے بتکماں کی عوامی اور سرکاری تقاریب کا انعقاد نہیں کیا گیا ، لیکن تلنگانہ کی خواتین نے اپنے اپنے گھروں میں بتکماں کے گلدستے سجاتے ہوئے خوشبو بھرے اس تہوار کو جوش و خروش سے منایا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 27, 2020 04:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading