உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگلور: دن دہاڑے بس میں ڈرائیور نے آبروریزی کے بعد لڑکی کو سڑک پر پھینکا

    بنگلور: بنگلور کے پاس ایک چلتی بس میں ڈرائیور کی طرف سے ایک 19 سالہ لڑکی کی آبروریزی کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔

    بنگلور: بنگلور کے پاس ایک چلتی بس میں ڈرائیور کی طرف سے ایک 19 سالہ لڑکی کی آبروریزی کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔

    بنگلور: بنگلور کے پاس ایک چلتی بس میں ڈرائیور کی طرف سے ایک 19 سالہ لڑکی کی آبروریزی کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      بنگلور: بنگلور کے پاس ایک چلتی بس میں ڈرائیور کی طرف سے ایک 19 سالہ لڑکی کی آبروریزی کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔


      پولیس نے بتایا کہ بنگلور دیہی ضلع کے هوسكوٹے میں واقع ایک نرسنگ ہوم میں کام کرنے والی متاثرہ لڑکی اس بس میں چڑھ گئی ، جس میں کوئی مسافر نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر کہ لڑکی بس میں اکیلی ہے ڈرائیور نے بس کے کلینر کو اسٹیئرنگ سنبھالنے کے لئے کہا اور لڑکی کی عصمت دری کی۔


      خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی ایک گاڑی میں 22 سال کی ایک بی پی او میں کام کرنے والی لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور کے مطابق حکومت اس طرح کے کسی واقعہ کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ قانون کے تحت فوری طور پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔


      پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ اپنے کام پر جا رہی تھی۔ عصمت دری کے بعد ڈرائیور اور کلینر دونوں نے لڑکی کو ایک سنسان جگہ پر چھوڑ دیا اور وہاں سے فرار ہو گئے۔ لڑکی کی شکایت پر پولیس نے بس ڈرائیور اور کلینر دونوں کو گرفتار کر لیا ہے اور بس کو قبضے میں لے لیا۔ پولیس نے بتایا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 376 (عصمت دری کی سزا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ متاثرہ کی طبی جانچ کی جا رہی ہے۔


      نجی گاڑیوں میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر داخلہ جی پرمیشور نے کہا کہ آئی ٹی کمپنیاں اور اس طرح کے دیگر ادارے جو ان گاڑیوں کا انتظام کرتے ہیں یا معاہدے پر انہیں رکھتے ہیں، انہیں اپنے ڈرائیوروں کے پس منظر کے بارے میں معلومات کا اشتراک کرنا ہوگا۔ ہم یہ کر رہے ہیں اور زیادہ سنجیدگی سے اس کی نگرانی شروع کریں گے۔

      First published: