உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Haramain Sharifain: حرمین شریفین کی جانب سے راجہ سنگھ کی شدید مذمت، جانیے تفصیل

    تصویر ٹوئٹر: Haramain Sharifain

    تصویر ٹوئٹر: Haramain Sharifain

    حرمین شریفین (Haramain Sharifain) نے بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے عناصر کو روکیں جو فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرتے ہیں اور اسلامو فوبیا (Islamophobia) کے پھیلاؤ کو روکنے اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Telangana | Karnataka | Jammu | iran
    • Share this:
      حرمین شریفین (Haramain Sharifain) نے منگل کے روز ہندوستان میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے معطل کردہ ایم ایل اے راجہ سنگھ (Raja Singh) کی جانب سے پیغمبر اسلام، نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیے گئے متنازعہ ریمارکس کی سخت مذمت کی ہے۔ حرمین شریفین نے ایک بیان میں گوشہ محل (Goshamahal) کے ایم ایل اے راجہ سنگھ کی طرف سے پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کی، جو کہ ہندوستان کی حکمران جماعت بی جے پی کے رکن ہیں۔ جنھیں منگل کو معطل کردیا گیا ہے۔

      حرمین شریفین نے بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے عناصر کو روکیں جو فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرتے ہیں اور اسلامو فوبیا (Islamophobia) کے پھیلاؤ کو روکنے اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ منگل کی صبح راجہ سنگھ کو حیدرآباد پولیس نے ایک ’مزاحیہ ویڈیو‘ میں پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کرنے پر گرفتار کیا تھا جو اس نے پیر کو دیر گئے یوٹیوب پر جاری کیا تھا۔ لیکن گرفتاری کے چند گھنٹوں کے بعد منگل کے روز ہی راجہ سنگھ کو عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔


      ویڈیو جاری ہونے کے بعد شہر میں راجہ سنگھ کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ بی جے پی کے معطل ایم ایل اے کے خلاف مختلف تھانوں میں شکایتیں درج کرائی گئیں، جس کے بعد پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے پر مجبور کیا گیا۔ پورے شہر حیدرآباد میں اب بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ راجہ سنگھ کو فوری گرفتار کیا جائے اور اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔



      یہ بھی پڑھیں: 


      سنگھ کو پارٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر بی جے پی سے بھی معطل کر دیا گیا۔ خاص طور پر پرانے شہر میں سینکڑوں لوگ اس کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کررہے ہیں۔

      گرفتاری کے بعد اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تاہم نامپلی کورٹ نے تکنیکی بنیادوں اور پولیس کی غلطی کی بنیاد پر ضمانت دے دی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: