உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Row: ہائی کورٹ کی خصوصی بنچ کل صبح 10.30 بجے حجاب کیس کا سنائے گی فیصلہ! سبھی منتظر

    درخواست گزاروں کے وکیل وائی ایچ میوچالا نے کہا کہ کالج کے لیے ہمیں ایسا کرنے سے روکنا درست نہیں ہے۔ کل طلبا کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے تمام وکیلوں سے کہا تھا کہ وہ جمعے تک اپنی عرضیاں ختم کر لیں اور اگر عرضیاں ختم ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد فیصلہ محفوظ رکھنے کا امکان ہے۔

    درخواست گزاروں کے وکیل وائی ایچ میوچالا نے کہا کہ کالج کے لیے ہمیں ایسا کرنے سے روکنا درست نہیں ہے۔ کل طلبا کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے تمام وکیلوں سے کہا تھا کہ وہ جمعے تک اپنی عرضیاں ختم کر لیں اور اگر عرضیاں ختم ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد فیصلہ محفوظ رکھنے کا امکان ہے۔

    درخواست گزاروں کے وکیل وائی ایچ میوچالا نے کہا کہ کالج کے لیے ہمیں ایسا کرنے سے روکنا درست نہیں ہے۔ کل طلبا کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے تمام وکیلوں سے کہا تھا کہ وہ جمعے تک اپنی عرضیاں ختم کر لیں اور اگر عرضیاں ختم ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد فیصلہ محفوظ رکھنے کا امکان ہے۔

    • Share this:
      کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) کی خصوصی بنچ کل یعنی 15 مارچ 2022 کی صبح 10.30 بجے حجاب کیس کا فیصلہ سنائے گی۔ جس کے لیے سبھی ابھی سے منتظر ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کرناٹک ہائی کورٹ نے جمعہ 25 فروری 2022 کو تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی مختلف عرضیوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

      اس دن کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب کیس (hijab case) کی سماعت دوپہر 2:30 بجے دوبارہ شروع ہوئی تھی۔ درخواست گزاروں کے وکیل وائی ایچ میوچالا (YH Muchhala) نے دلیل دی تھی کہ ہیڈ سکارف کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے، جس سے سر کو ڈھانپا جاتا ہے نہ کہ چہرے کو، انہوں نے مزید کہا کہ اسے استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

      درخواست گزاروں کے وکیل وائی ایچ میوچالا نے کہا کہ کالج کے لیے ہمیں ایسا کرنے سے روکنا درست نہیں ہے۔ کل طلبا کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے تمام وکیلوں سے کہا تھا کہ وہ جمعے تک اپنی عرضیاں ختم کر لیں اور اگر عرضیاں ختم ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد فیصلہ محفوظ رکھنے کا امکان ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: Hijab Row: تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر حکم محفوظ، ’حجاب مسلم لڑکیوں کیلئےزندگی اورموت کاسوال‘

      دریں اثنا جمعرات (24 فروری 2022) کو سماعت کے دس ویں دن تین ججوں کی بنچ نے ان وکلا کے دلائل کو سنا جنہوں نے حجاب کے حق کے لیے سخت دباؤ ڈالا۔ سینئر وکیل اے ایم ڈار (A.M. Dar) ان لڑکیوں کے وکیل ہیں۔ جنہیں حجاب پہننے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے، انھوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے ایک وسیع دلیل پیش کی اور کہا کہ حجاب مسلمان لڑکیوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ انھوں نے بنچ کے سامنے استدعا کی کہ انھیں کلاس رومز میں حجاب پر پابندی کے حکم کو منظور کرنے پر ریاست پر سخت تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 7th Pay Commission:خوشخبری! مرکزی ملازمین کو ہولی سے پہلے ملی سوغات، پورے 8000 روپے بڑھ گئی سیلری، جانیے کسے ملے گا فائدہ




      اڈوپی پری یونیورسٹی گرلز کالج (Udupi Pre-University Girls' College ) سے شروع ہونے والے حجاب کا تنازعہ ریاست میں ایک بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے، ان طالبات نے بغیر حجاب کے کلاس میں جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ حتمی فیصلہ آنے تک انتظار کریں گی۔ ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کلاس رومز کے اندر حجاب اور زعفرانی شال یا اسکارف دونوں پر پابندی عائد کی گئی تھی، احتجاج جاری ہے۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: