உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدرآباد میں جشن خواجہ غریب نوازکا انعقاد اورخانقاہ چشتیہ محبوبیہ کا آغاز

    حیدرآباد۔ برصغیر میں تمام صوفیائے کرام نے انسانیت کا درس دیا ہے ۔

    حیدرآباد۔ برصغیر میں تمام صوفیائے کرام نے انسانیت کا درس دیا ہے ۔

    حیدرآباد۔ برصغیر میں تمام صوفیائے کرام نے انسانیت کا درس دیا ہے ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      حیدرآباد۔ برصغیر میں تمام صوفیائے کرام نے انسانیت کا درس دیا ہے ۔ اسی انسانیت کے پیغام کی وجہ سے آج پوری دنیا خواجہ معین الدین چشتیؒ کو یاد کرتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار حیدرآباد میں ایک مذہبی پروگرام کے دوران سیاستدانوں اور دانشوروں نے کیا۔ جشن خواجہ غریب نواز میں مہمانان خصوصی کی حیثیت سے سجادہ نشین گلبرگہ شریف سید شاہ گیسو دراز حسینی خسرو پاشاہ، سجادہ نشین درگاہ حضرت نیلنگہ شریف سید حیدرپاشاہ قادری، کانگریس لیڈرعتیق صدیقی خرم، متولی صدیق گلشن محمود صدیقی کے علاوہ شہر کے سرکردہ علما ئے کرام اور مشائخین نے شرکت کی۔ پیر طریقت سید حیدر علی حسینی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔


      خواجہ معین الدین چشتی اجمیری غریب نوازؒ کے عقیدت مندوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرزمین ٹیپو سلطان کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدرامیا نے پہلی بار ریاستی حکومت کی جانب سے عرس حضرت غریب نواز کے موقع پر چادر روانہ کی ۔ان خیالات کااظہار کرناٹک وزیر اقلیتی بہبود قمرالاسلام نے حیدرآباد میں جشن غریب نوازؒ اور خانقاہ چشتیہ و محبوبیہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔


      انہوں نے کہا کہ سدرامیا حکومت ریاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی فلاح و بہبود کےلیے کئی منصوبے رکھتی ہے۔ قمرالاسلام نے بتایا کہ مسلم طلبا کو 20لاکھ روپئے اسکالر شپ دے کر بیرونی ممالک میں تعلیم کی سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ رواں سال سدرامیا حکومت نے کل 184طلبا کو بیرونی ممالک روانہ کیا۔


      ahmada2


      درگاہ کمیٹی حضرت خواجہ غریب نواز کے صدر اسرار احمد  خان  نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ معین الدین چشتی کا آستانہ کثرت میں وحدت کی ایک مثال ہے ۔ یہاں پربلا لحاظ مذہب وملت لوگ شرکت کرکے قومی یکجہتی اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں خواجہ صاحت کی تعلیمات مشعل راہ ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ درگاہ کمیٹی درگاہ میں زائرین کی سہولت کےلیے کئی منصوبے رکھتی ہے ۔

      First published: