உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک بجٹ : سدا رمیا سے اقلیتوں کو کافی امیدیں وابستہ

    گلبرگہ : اٹھارہ مارچ کو پیش ہونے والے کرناٹک بجٹ سے اقلیتیں بھی پر امید ہیں۔ اقلیتوں کا کہنا ہے کہ سماجی انصاف کا دعوی کرنے والے وزیر اعلیٰ سدارمیا اس بارتو ضرور نظر کرم کریں گے۔ اقلیتوں کا اپنی آبادی کے تناسب سے بجٹ کا حکومت سے مطالبہ ہے۔ معاشی اور تعلیمی میدان میں اقلیتوں کو حکومت سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔

    گلبرگہ : اٹھارہ مارچ کو پیش ہونے والے کرناٹک بجٹ سے اقلیتیں بھی پر امید ہیں۔ اقلیتوں کا کہنا ہے کہ سماجی انصاف کا دعوی کرنے والے وزیر اعلیٰ سدارمیا اس بارتو ضرور نظر کرم کریں گے۔ اقلیتوں کا اپنی آبادی کے تناسب سے بجٹ کا حکومت سے مطالبہ ہے۔ معاشی اور تعلیمی میدان میں اقلیتوں کو حکومت سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      گلبرگہ : اٹھارہ مارچ کو پیش ہونے والے کرناٹک بجٹ سے اقلیتیں بھی پر امید ہیں۔ اقلیتوں کا کہنا ہے کہ سماجی انصاف کا دعوی کرنے والے وزیر اعلیٰ سدارمیا اس بارتو ضرور نظر کرم کریں گے۔ اقلیتوں کا اپنی آبادی کے تناسب سے بجٹ کا حکومت سے مطالبہ ہے۔ معاشی اور تعلیمی میدان میں اقلیتوں کو حکومت سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔
      ملک کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں کی طرح کرناٹک کے مسلمانوں کے مسائل بھی تعلیم، روزگار، اوقافی املاک اور اردو زبان کے آس پاس گھومتے ہیں۔ اقلیتوں کو ہمیشہ سے ہی شکایت رہی ہے کہ حکومتیں بجٹ میں ان کو ان کا جائز مقام نہیں دیتیں۔ گزشتہ مرتبہ بجٹ کا0.67 فیصد حصہ ہی اقلیتوں کے حصے میں آیا تھا۔ دانشوران اقلیتی آبادی کے تناسب سے بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
      اقلیتوں کا مطالبہ ہے کہ ہر تعلقہ میں اقلیتوں کے نام پر ایک ہائی اسکول اور پی یو سی کالج بنایا جائے۔ آر ٹی آئی کے تحت اقلیتی طلبہ کو ساڑھے سات فیصد ریزرویشن دیا جائے۔ کرناٹک میں مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی صورتحال کا صحیح اندازہ لگانے کیلئے ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی جائے۔
      جسٹس رجندر سچر کمیٹی کی تمام سفارشات کو ریاست میں رائج کیا جائے۔ رنگناتھ مشرا کمیشن کے تحت سفارش کردہ مسلمانوں کو تمام شعبے میں دس فیصد ریزرویشن دیا جائے۔ وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت کئی اضلاع میں کمیٹیاں ہی تشکیل نہیں دی گئی ہیں، اس کام کو جلد پورا کیا جائے ۔ کے پی ایس سی میں گزشتہ تین برسوں سے مسلم نمائندگی نہیں ہے ، فوری طور پر اس کو پر کیا جائے۔
      کرناٹک میں مسلمان اقتصادی طورپر بھی کافی کمزور ہیں۔ اقلیتوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت مسلمانوں کیلئے خصوصی اقتصادی پیکیج کا اعلان کرے۔ اوقافی املاک کے تحفط کیلئے بیداری کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ۔ریاست میں اوقاف کی تمام املاک کا سروے کر وایا جائے اور اس کا با ضابطہ رجسٹریشن کیاجائے ۔ اقلیتوں کیلئے مختص تمام منصوبوں کیلئے سنگل ونڈو سسٹم متعارف کرایا جانا چاہئے۔ ضلع و تعلقہ سطح پر اخبار و میگزین چلانے والے اقلیتی اداروں کو ماہانہ اعزازیہ دیا جائے۔
      محکمہ پولیس میں بھی مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے 15 فیصد ریزرویشن دیا جائے۔ ریاست میں حقوق انسانی اور امن و قومی یکجہتی کیلئے کام کرنے والے اقلیتی رہنمائوں کو ہر سال ٹیپو سلطان کے نام سے ایوارڈ دیا جائے۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کو گزشتہ مرتبہ چھ ماہ تک بجٹ سے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیاتھا۔ اردو والے اس مرتبہ اکیڈمی کے بجٹ کو دو کروڑ سے بڑھا کر پانچ کروڑ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

      First published: