اپنا ضلع منتخب کریں۔

    حجاب تنازعہ: کرناٹک کے وزیر تعلیم بولے، سپریم کورٹ سے ہمیں تھی بہتر فیصلے کی امید لیکن۔۔۔

    Youtube Video

    Karnataka Hijab Row: سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہمیں ایک بہتر فیصلے کی توقع تھی، کیونکہ دنیا بھر میں خواتین حجاب، برقع نہ پہننے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka, India
    • Share this:
      سپریم کورٹ نے جمعرات کو حجاب کے معاملے پر اپنا فیصلہ سنایا۔ اس معاملے میں جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی رائے مختلف رہی۔ جسٹس گپتا نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، جب کہ جسٹس دھولیا نے اسے خارج کر دیا۔ ایسے میں اب حجاب تنازعہ پر سپریم کورٹ کی ایک بڑی بنچ فیصلہ کرے گی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سال 15 مارچ کو ہائی کورٹ نے اُڈپی کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی گرلز کالج کی مسلم طالبات کو کلاس روم کے اندر حجاب پہننے کی اجازت دینے والی درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا تھا کہ "حجاب پہننا غیر قانونی ہے۔ اسلام میں ضروری مذہبی عمل" کا حصہ نہیں ہے۔ اس فیصلے کو طلبہ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

      سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہمیں ایک بہتر فیصلے کی توقع تھی، کیونکہ دنیا بھر میں خواتین حجاب، برقع نہ پہننے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کرناٹک ہائی کورٹ کا حکم عبوری مدت میں نافذ رہتا ہے۔ فی الحال، ریاست کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی برقرار رہے گی۔‘‘ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی حمایت کرنے والی تنظیموں کے بارے میں پوچھے جانے پر کرناٹک کے وزیر تعلیم نے کہا، ’’وہ ہمیشہ اس معاشرے کو تقسیم کرنا چاہیں گے۔ وہ حجاب کا استعمال کر کے معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔

      حجاب تنازع پر نہیں آیا کوئی فیصلہ، سپریم کورٹ کے دونوں ججوں کی رائے میں اختلاف

      سپریم کورٹ کی طرف سے فی الحال جو فیصلہ آیا ہے اس کے مطابق اب 3 ججز یا 5 ججوں پر مشتمل لارجر بنچ حجاب تنازعہ کی سماعت کرے گی۔ اس معاملے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کریں گے۔ فی الحال، کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ، 'تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر جانے پر پابندی' اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک سپریم کورٹ اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں لے لیتا ہے۔

      جموں۔کشمیر ووٹنگ آرڈرس میں بڑی تبدیلی، دوسری ریاستوں کے لوگوں کو ووٹنگ کا حق نہیں ملے گا

      کرناٹک کے اڈپی میں پولیس نے حجاب پر پابندی کے معاملے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے آنے بعد نگرانی بڑھا دی ہے۔ اُڈپی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکشے ہاکے نے کہا، "احتیاطی اقدامات جیسے کہ پولس پکٹنگ اور مسلسل گشت اہم علاقوں میں اٹھائے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ معاشرے میں موجود ناپسندیدہ عناصر امن و امان کو بگاڑنے کی کوشش نہ کریں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: