உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab: کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب سے متعلق سماعت، سوشل میڈیا پر کئی طرح کے ٹرینڈس اور ویڈیوز وائرل

    تصویر ٹوئٹر: @Habeebinamdar

    تصویر ٹوئٹر: @Habeebinamdar

    مسلم طالبات کا شروع سے کہنا ہے کہ لڑکیوں کا حجاب پہننا مذہب پر عمل کرنے کے ان کے بنیادی حق کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس طلبہ کے ایک گروپ نے زعفرانی شالیں پہن کر کالج جانا شروع کیا۔

    • Share this:
      کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) میں آج کالجوں میں حجاب (Hijab) پر پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت شروع ہوئی۔ اسی کے ساتھ ’حجاب رو‘ (Hijab Row) ہیش ٹیگ ٹویٹر پر نئی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ہیش ٹیگز ’حجاب ہمارا حق ہے (#HijabIsOurRight) اور حجاب ہمارا انفرادی حق ہے (Hijab is our individual right) ٹویٹر پر ٹرینڈ ہو رہے ہیں۔

      جب سے اڈوپی کے ایک کالج میں مسلم لڑکیوں کے ایک گروپ کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں دی گئی، تب سے یہ ٹرینڈز چل رہے ہیں۔ کرناٹک میں مزید کالجوں نے حجاب پہننے والے طالبات کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے جانے کے بعد یہ آمنا سامنا جاریہے۔ جس میں دوسرے طرف لڑکے زعفرانی گھنڈوے کے ساتھ احتجاج کررہے ہیں۔


      مسلم طالبات کا شروع سے کہنا ہے کہ لڑکیوں کا حجاب پہننا مذہب پر عمل کرنے کے ان کے بنیادی حق کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس طلبہ کے ایک گروپ نے زعفرانی شالیں پہن کر کالج جانا شروع کیا۔ وہیں دلت طلبا کے ایک گروپ نے بھی نیلی شال پہن احتجاج میں شرکت کی۔ آئیے حجاب کے حوالے سے مختلف موقف پر ایک نظر ڈالتے ہیں کیونکہ ہائی کورٹ میں درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔


      کرناٹک ہائی کورٹ کالجوں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی مسلم طالبہ کے کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ درخواست گزار نے یہ کہتے ہوئے التوا کی درخواست کی کہ ایک اور درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ اعتراضات کا بیان داخل کر دیا گیا ہے۔
      یہ بات قابل ذکر ہے کہ کرناٹک میں’حجاب‘ پہننے پر تنازعہ پیر کو زور پکڑ گیا اور کچھ طالبات نے یونیفارم کو لے کرحکومت کے احکامات کو ماننے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے امن وامان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔




      ریاست کے ضلع اڈوپی کے کنڈا پور کے ایک کالج کے ہیڈ ماسٹر نے حجاب پہننے والی طالبات سے بات چیت کی اور انہیں حکومت کے احکامات کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بھی طالبات اپنے بنیادی حقوق والے مطالبات پر قائم رہیں۔



      وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کہا کہ حجاب پہننے کا مطالبہ کرنے والی طالبات کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ اس معاملے پر ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت سے قبل، بسوراج بومئی نے سبھی سے امن وامان قائم رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ ان کی حکومت عدالت کے فیصلے کے بعد قدم اٹھائے گی۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: