உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UDUPI: کرناٹک میں حجاب تنازعہ، طالبات کو ملی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلور کے فیکلٹیزکی تائید 

    تصویر انسٹاگرام: shahenwaz_alvish

    تصویر انسٹاگرام: shahenwaz_alvish

    ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب کی خواتین کو کسی نہ کسی طرح کی سماجی اور دیگر بنیادوں پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یقینی طور پر ہم اس طرح کے طرز عمل کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

    • Share this:
      اڈوپی (UDUPI): انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلور (IIM-B) کے پانچ اساتذہ نے جمعہ کے روز قومی کمیشن برائے خواتین (NCW) کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرے اور مسلم خواتین کو ڈرانے دھمکانے کی خبروں کا فوری طور پر از خود نوٹس لے۔ کیونکہ کرناٹک میں مخصوص مذہبی لباس میں لڑکوں نے ایک طالبہ کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔

      ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب کی خواتین کو کسی نہ کسی طرح کی سماجی اور دیگر بنیادوں پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یقینی طور پر ہم اس طرح کے طرز عمل کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور ہمیں تبدیلی لانے کے لیے مردوں، عورتوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان فیکلٹی ممبران کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی اس کے مذہبی عمل سے روکنا قابل قبول نہیں ہے۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل کرناٹک میں حجاب یا سر پر اسکارف پہننے والے مسلم طالبات کو اسکولوں میں داخلے سے روک دیا گیا اور اسی سبب احتجاج شروع کر دیا گیا تھا۔ اسی دوران کرناٹک میں احتجاج تنازعہ کی شکل اختیار کرگیا۔ جس کے بعد ریاستی حکومت کو تین دن کے لیے اسکول اور کالج بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سے قبل 5 فروری 2022 کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے حجاب پر پابندی کا حکم دیا گیا تھا۔

      کرناٹک ہائی کورٹ نے جمعرات کو طالب علموں کو اسکولوں اور کالجوں میں حجاب یا کوئی اور مذہبی لباس پہننے سے روک دیا جب تک کہ وہ اس پابندی پر سوال اٹھانے والی درخواستوں کا حتمی فیصلہ نہ کیا جائے۔

      واضح رہے کہ کرناٹک حجاب تنازعہ (Karnatka Hijab Row) پر سپریم کورٹ(Supreme Court) میں دوبارہ سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس (Chief Justice of India) این وی رمنا کی بنچ نے کہا کہ ہم مناسب وقت پر اس عرضداشت پر سماعت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے درخواست دائر کرنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو بڑے پیمانے پر نہ پھیلائیں۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی بنچ نے عرضی گزاروں سے کہا کہ وہ اسے قومی مسئلہ نہ بنائیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ درخواست گزار اس معاملے پر ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں، جہاں پیر کو ایک بار پھر سماعت ہونی ہے۔

      ایس جی تشار مہتا کو روکتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ ہم تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں۔ مناسب وقت آنے پر ہم سماعت کریں گے۔ مناسب وقت پر عدالت عظمیٰ کی جانب سے مداخلت کی جائیگی۔ عدالت نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے کہا، "ہم دیکھ رہے ہیں کہ کرناٹک میں کیا ہو رہا ہے اور معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔"
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: