உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک حجاب تنازع: جے ڈی ایس کے ریاستی صدر نے حجاب کا گھونگھٹ سے کیا موازنہ، پھر کہہ ڈالی یہ بات

    کرناٹک حجاب تنازع: جے ڈی ایس کے ریاستی صدر نے حجاب کا گھونگھٹ سے کیا موازنہ، پھر کہہ ڈالی یہ بات ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    کرناٹک حجاب تنازع: جے ڈی ایس کے ریاستی صدر نے حجاب کا گھونگھٹ سے کیا موازنہ، پھر کہہ ڈالی یہ بات ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    Karnataka Hijab Controversy: جنتا دل (سیکولر) کے کرناٹک کے صدر سی ایم ابراہیم کا حجاب تنازع پر بیان آیا ہے، جس میں انہوں نے حجاب کا موازنہ گھونگھٹ سے کیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka | Bangalore | Mysore
    • Share this:
      بنگلورو : کرناٹک میں حجاب تنازع کا معاملہ ابھی تک سرخیوں میں بنا ہوا ہے ۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے ۔ وہیں اس تنازع پر جنتا دل (سیکولر) کے کرناٹک کے صدر سی ایم ابراہیم کا بیان آیا ہے، جس میں انہوں نے حجاب کا موازنہ گھونگھٹ سے کیا ہے ۔ سی ایم ابراہیم نے سوال کیا کہ اندرا گاندھی نے اپنے سر کو پلو سے ڈھکا تو جو لوگ بھی اپنے چہرے کو گھونگھٹ سے ڈھکتے ہیں، کیا وہ سبھی پی ایف آئی کے ذریعہ حمایت یافتہ ہیں؟

       

      یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ میں SG کی دلیل، قرآن میں صرف حجاب کا تذکرہ ہونے سے وہ لازمی مذہبی روایت نہیں


      انہوں نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا ( پی ایف آئی) کا نام اس لئے لیا، کیونکہ کرناٹک سرکار نے الزام لگایا ہے کہ اس تنازع کو بڑھانے میں پی ایف آئی کا ہاتھ ہے ۔ انہوں نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی پلو سے اپنا سر ڈھکا، کیا یہ پی ایف آئی کی سازش ہے؟ پلو سے سر ڈھکنا ہندوستان کی تاریخ ہے، یہ ہندوستان کا کلچر ہے ۔


      یہ بھی پڑھئے: کرناٹک حجاب کیس: سپریم کورٹ میں بحث کے دوران کیوں ہوا شام، امبیڈکر، گاندھی اور پٹیل کا ذکر؟ پڑھئے 8 اہم باتیں


      انہوں نے مزید کہا کہ راجستھان میں کوئی بھی راجپوت خاتون اپنا چہرہ نہیں دکھاتی ہے ، وہ ایک لمبے گھونگھٹ میں رہتی ہے، تو کیا اس کو مسلم روایت بتا کر اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حجاب اور پلو میں صرف زبان کا فرق ہے، لیکن کام وہی رہتا ہے۔

      بتادیں کہ کرناٹک سرکار نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ حجاب احتجاج کے پیچھے پی ایف آئی کا ہاتھ ہے ۔ جسٹس ہیمنت گپتا کی قیادت والی بینچ کے سامنے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ کوئی بھی طالب علم 2022 تک حجاب پر زور نہیں دے رہا تھا ۔ مہتا نے کہا کہ حجاب پر آندولن سماجی بدامنی پیدا کرنے کیلئے پی ایف آئی کے ذریعہ رچی گئی 'بڑی سازش' کا حصہ ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: