உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Row: حیدرآباد میں بھی حجاب کے حق میں احتجاج، ’حجاب ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ‘

    تصویر: Abdul Azeem Khan

    تصویر: Abdul Azeem Khan

    ایک اور طالبہ نے بھی حجاب کے ضمن میں کرناٹک میں مسلم طالبات کو کالج میں داخلہ سے انکار کے خلاف اپنا رعمل ظاہر کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے حجاب پہن رکھا ہے اور ہم اسے پہنتے رہیں گے۔ یہ ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔

    • Share this:
      حیدرآباد کے چند تعلیمی اداروں میں بدھ 9 فروری 2022 کو کرناٹک کی طالبات کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج منظم کیا گیا۔ احتجاج میں شریک مظاہرین اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے کے اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ حیدرآباد کے ملے پلی نامی علاقے میں واقع انوار العلوم کالج (Anwarul Uloom College) مسلم اقلیتی کالج ہے۔ یہاں کے طلبا نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔

      چارمینار کے قریب واقع یونی میڈیسن کالج گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج (Government Nizamia Tibbi College) کے طلبا نے بھی کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انوار العلوم کالج میں طلبا کے ایک گروپ نے احتجاجی ریلی نکالی، جس میں ایک بینر تھا۔ اس پر لکھا ہے کہ ’’ہماری کرناٹک کی بہن کے حق میں احتجاجی ریلی۔ حجاب مسلم خواتین کا آئینی حق ہے۔ حجاب ہمارا حق ہے اور کوئی اسے ہم سے چھین نہیں سکتا۔ ہم حجاب کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔


      حجاب پر پابندی (Hijab Ban) کے خلاف ایک خاموش احتجاج گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج میں بھی کیا گیا جہاں کئی طالبات نے حجاب پہن کر قومی پرچم اٹھائے چارمینار کے قریب پہنچی۔


      ان میں سے احتجاج کرنے والے طلبا میں سے ایک نے کہا کہ ہم بنگلورو میں حجاب پر پابندی کی ناانصافی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ حجاب کوئی نئی چیز نہیں ہے، یہ ایک پرانی عادت ہے۔ یہ پابندی تقسیم کرنے والا سیاسی حربہ ہے لیکن ہندوستان اس کے خلاف اکٹھے اٹھے گا اور ناقدین کو سبق سکھائے گا۔

      ایک اور طالبہ نے بھی حجاب کے ضمن میں کرناٹک میں مسلم طالبات کو کالج میں داخلہ سے انکار کے خلاف اپنا رعمل ظاہر کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے حجاب پہن رکھا ہے اور ہم اسے پہنتے رہیں گے۔ یہ ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔


      طالبات نے کرناٹک کے منڈیا میں ایک پری یونیورسٹی کالج کی طالبہ مسکان کی بھی تعریف کی، جسے ایک وائرل ویڈیو میں زعفرانی شالوں میں مردوں کے ہجوم کے سامنے سے باک اور جوں مردی سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ جب وہ برقعے میں کالج پہنچی تو ہجوم نے اس سے بدتمیزی کی۔ نظامیہ طبی کالج کے احتجاجی طالبات نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

      گزشتہ 8 فروری بروز منگل مسکان کے ساتھ توہین آمیز حرکت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے ایم پی اسد الدین اویسی نے بھی اس کی تعریف کی اور اس کے جوابی اقدام کو ایک بہادر ردعمل قرار دیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: