உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Case: کرناٹک حکومت نے ہائی کورٹ میں کیمپس فرنٹ آف انڈیا کی تفصیلات جمع کرائیں

    کرناٹک ہائی کورٹ میں آج سماعت ختم ہوگئی۔

    کرناٹک ہائی کورٹ میں آج سماعت ختم ہوگئی۔

    چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس جے ایم خازی اور جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ پر مشتمل فل بنچ حجاب کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ نوادگی نے بنچ کو بتایا کہ ’’سینئر ایڈوکیٹ ایس ایس ناگنند کی طرف سے ایک تنظیم کے خلاف جمع کرائی گئی درخواست کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے‘‘۔

    • Share this:
      کرناٹک حکومت (Karnataka government) نے جمعرات کو ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ کیمپس فرنٹ آف انڈیا (Campus Front of India) کے اراکین کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) درج کی گئی ہے، جنہوں نے کرناٹک کے ضلع اڈوپی کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی گرلز کالج (Government Pre-University Girls College in Udupi) میں مبینہ طور پر کچھ اساتذہ کو دھمکی دی تھی۔ جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی نے ہائی کورٹ کی فل بنچ کو بتایا کہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے بینچ کو سیل بند لفافے میں CFI سے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں۔

      چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس جے ایم خازی اور جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ پر مشتمل فل بنچ حجاب کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ نوادگی نے بنچ کو بتایا کہ ’’سینئر ایڈوکیٹ ایس ایس ناگنند کی طرف سے ایک تنظیم کے خلاف جمع کرائی گئی درخواست کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے‘‘۔

       

      کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) نے حجاب معاملہ (Hijab Row) پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ہفتہ تک اس معاملہ کو نمٹارہ کرنا چاہتا ہے اور اس کیلئے عدالت نے سبھی فریقوں کا تعاون مانگا ہے ۔ منگل کو ہوئی سماعت میں عرضی گزار لڑکیوں کے وکیل نے ہائی کورٹ سے ان مسلم طالبات  (Muslim Students) کو کچھ چھوٹ دینے کی اپیل کی جو حجاب پن کر اسکول اور کالج جانا چاہتی ہیں ۔

      وہیں ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نودگی نے عدالت کو بتایا کہ اسکول کیمپس میں حجاب پہننے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف کلاس روم میں حجاب پہننے کی ممانعت ہے اور یہ قانون ہر مذہب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 19 کے حق کے طور پر حجاب پہننے کے حق پر آرٹیکل 19 (2) کے تحت پابندی لگائی جاسکتی ہے ۔ اس معاملہ میں رول 11 اداروں کے اندر ایک مناسب پابندی لگاتا ہے اور یہ ایک ادارہ جاتی نظم و ضبط کے تحت آتا ہے ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: