உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab row Updates: حجاب پرہنوزکوئی فیصلہ نہیں، پیرتک سماعت ملتوی، ایڈوکیٹ جنرل نےکہی یہ اہم بات

    کرناٹک ہائی کورٹ میں آج سماعت ختم ہوگئی۔

    کرناٹک ہائی کورٹ میں آج سماعت ختم ہوگئی۔

    کلاس رومز کے اندر حجاب پر پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز سماعت کو پیر تک کے لیے ملتوی کر دیا کیونکہ عرضی گزاروں نے اپنا کیس پیش کرنے کے لیے مزید وقت مانگا۔ اب اس کیس کی سماعت پیر کو دوپہر 2.30 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔

    • Share this:
      آج کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court ) کی سماعت ختم ہو گئی۔ حجاب معاملے کی اگلی سماعت پیر 21 فروری کو ہوگی۔ ایڈوکیٹ جنرل (AG) نے حکومتی موقف پر عرضیاں پیش کیں کہ حجاب پہننا ضروری مذہبی عمل نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں نے جس طرح سے اس پر بات کی ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے حجاب پہننا ایک ضروری مذہبی عمل ہے جو امن عامہ، اخلاقیات یا صحت کے راستے میں نہیں آتا اور یہ ایک بے ضرر عمل ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم دفعہ25(1) کا حوالہ دیں۔

      گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج فار گرلز، اڈوپی (Government Pre-University College for Girls, Udupi) کی طالبات کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کے ایک گروپ کی سماعت کے بعد کلاس رومز کے اندر حجاب پر پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز سماعت کو پیر تک کے لیے ملتوی کر دیا کیونکہ عرضی گزاروں نے اپنا کیس پیش کرنے کے لیے مزید وقت مانگا۔ اب اس کیس کی سماعت پیر کو دوپہر 2.30 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔

      سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری عمل نہیں ہے اور حجاب کی مشق کو آئینی اخلاقیات کے امتحان سے گزرنا چاہیے۔ اے جی نے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور جسٹس خواجہ زیب النسا محی الدین پر مشتمل تین ججوں کی ہائی کورٹ بنچ کو بتایا کہ ہم (کرناٹک حکومت) نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حجاب پہننا اسلام کے ضروری مذہبی عمل کے اندر نہیں آتا ہے۔ حجاب کی مشق کو آئینی اخلاقیات اور انفرادی وقار کے امتحان سے گزرنا چاہیے جیسا کہ سپریم کورٹ نے سبریمالا (Sabrimala) اور سائرہ بانو سے متعلق (تین طلاق) (Shayara Bano (Triple Talaq) cases) کیسز میں بیان کیا تھا۔

      انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ کالجوں میں جو یونیفارم مقرر کیا گیا ہے وہ برسوں سے طالبات چاہے کسی بھی مذہب کی ہو، پہنتی آرہی ہیں۔ اے جی نے کہا کہ یونیفارم کا نسخہ 2013 میں اس ادارے میں موجود تھا۔ دسمبر 2021 تک کوئی مشکل نہیں تھی۔

      انہوں نے کہا کہ عدالت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا اس مشق سے امن عامہ یا اخلاقیات متاثر ہوتی ہیں۔ اگر کوئی اس مشق کو مذہب کی آزادی کے حق پر زور دیتا ہے۔ تو عدالت کو یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا اس مشق سے امن عامہ، اخلاقیات پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

      واضح رہے کہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش میں کرناٹک کی ریاستی حکومت نے گزشتہ ہفتے اسکولوں کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا لیکن پچھلے دو دنوں سے آہستہ آہستہ تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے اسکولوں میں تمام مذہبی علامتوں کے پہننے پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: