مخلوط تہذیب جنوبی ہند میں ترقی پائی ، لیکن شمالی ہند میں ترقی نہیں کرسکی : پروفیسر سلیمان صدیقی

مخلوط تہذیب جنوبی ہند میں ترقی پائی لیکن شمالی ہند میں ترقی نہیں کرسکی ۔ دکن میں مسلمانوں کہ سیاسی تاریخ کا آغاز 1300 عیسوی سے ہوتا ہے ۔

Oct 13, 2019 07:06 PM IST | Updated on: Oct 13, 2019 07:06 PM IST
مخلوط تہذیب جنوبی ہند میں ترقی پائی ، لیکن شمالی ہند میں ترقی نہیں کرسکی : پروفیسر سلیمان صدیقی

مخلوط تہذیب جنوبی ہند میں ترقی پائی ، لیکن شمالی ہند میں ترقی نہیں کرسکی : پروفیسر سلیمان صدیقی

ساؤتھ انڈیا ہسٹری کانفرنس میں پہلے دن ملک کی مختلف ریاستوں سے ماہر تاریخ داں، پروفیسرس اور محققین نے شرکت کی ۔ کانفرنس میں مختلف الخیال لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھا گیا ۔ یہ پروگرام کانگریس ، سی ای آر ٹی اور ایس آئی او آف انڈیا کی شراکت داری کے ساتھ منعقد کیا گیا ، جس کا مقصد تاریخی تناظر میں پسماندہ طبقات کے مسائل پر غور کرنا تھا ۔

ایس آئی او کے صدر لبید شافی نے اپنی افتتاحی تقریر میں کانفرنس کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں منظم انداز میں تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے ۔ ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب مخلوط ہے ۔ آج کے ان سنگین حالات میں سی ای آر ٹی نے اس اہم موضوع پر یہ پروگرام منعقد کیا ، جو کہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

Loading...

اس موقع پر پروفیسر سلیمان صدیقی نے کہا کہ مسلمان ہندوستان میں محمد بن قاسم کی وجہ سے نہیں آئے بلکہ پیغمبر اسلام کے دور میں ہی کیرالہ میں آئے تھے اور انھوں نے یہاں تجارت کی۔ جنوب اور شمال میں فرق یہ ہیکہ جنوب میں ہندو مسلم ساتھ ساتھ رہتے تھے، ہندو راجہ مسلمانو کو ساتھ رکھتے تھے، ان کے لئے تجارت کے مواقع فراہم کرتے تھے ۔ لیکن شمال میں ہمیشہ چڑھائی ہوتی تھی ، حکومت کے لیے جنگ ہوتی تھی ۔ محمد بن قاسم بھی اس ایک مثال ہے ۔ مخلوط تہذیب جنوبی ہند میں ترقی پائی لیکن شمالی ہند میں ترقی نہیں کرسکی ۔ دکن میں مسلمانوں کہ سیاسی تاریخ کا آغاز 1300 عیسوی سے ہوتا ہے ۔

افتتاحی سیشن کے بعد مزید تین سیشن مختلف عناوین جیسے کہ جنوبی ہند کے کمیونٹیز کی تاریخ ، جنوبی ہند کے الحاق کی تاریخ وغیرہ پر منعقد ہوئے ۔ کومبیا ایس انور (سینیر جرنلسٹ اینڈ ڈاکومنٹری میکر)، سرفراز شیخ (سینیر جرنلسٹ، ٹایمز آف انڈیا) اور ڈاکٹر مظفر اسدی (افسر آن اسپیشل ڈیوٹی، رایچور یونیورسٹی) نے بالترتیب مختلف سیشن کی صدارت کی ۔ پہلے دن کا اختتام گول میز کانفرنس کے ساتھ ہوا، جس میں مختلف طلبہ لیڈروں نے شرکت کی ۔

Loading...