ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ماں کا دودھ پیتے ہوئے یہاں ہوئی 11 بچوں کی موت ، جانئے دودھ پلانے کاصحیح طریقہ

کئی مرتبہ ڈاکٹر خواتین کو بچوں کو ڈکار دلوانے کیلئے بولتے ہیں۔بچے کو دودھ پلانے کے بعد بچے کو سیدھا کھڑا کرکے بچے کے سر کو اپنے کندھے پر رکھنا چاہئے تاکہ سانس کی نالی میں دودھ جاکر سانس کو نہ روکے۔

  • Share this:
ماں کا دودھ پیتے ہوئے یہاں ہوئی 11 بچوں کی موت ، جانئے دودھ پلانے کاصحیح طریقہ
علامتی تصویر

گزشتہ ہفتے اٹاپدی ، پل ککڑ میں ماں کا دودھ پیتے ہوئے ایک بچے کی سانسیں اٹک گیں جس کی وجہ سے اس کی موت ہاگئی۔ اس سال صرف کیرالہ میں یہ اس طرح کی چھٹی موت ہے۔اس حالت کو اسپریشن کہا جاتا ہے۔ جب غلطی سے کھانا یا کوئی چیز کھانے کی نالی کی بجائے سانس کی نالی میں پھنس جاتا ہے۔ اگر انسان بڑا ہو تو وہ کھانسنے لگتا ہے جس سے اس کا کھانا یا کوئی بھی پھنسی چیز نکل سکتی ہے۔ لیکن اگر کھانا طرح پھنس جائے کہ پوری طرح سے سانس آنا بند ہو جائے تو اس سے انسان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ بچے کے معاملے میں ہوا۔بلکہ بچو ں میں ایسے واقعے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔


ہم سبھی جانتے ہیں کہ ناک ، منھ اور گلا آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ ایسے میں جب کوئی کھاتا یا پیتا ہے تو گلے میں کھانا جاتے ہی سانس کی نالی سے جڑاؤ کی جگہ اپنے آپ بند ہو جاتی ہےتاکہ کھانا اس میں نہ چلا جائے۔


لیکن بچوں میں یہ حالت کبھی کبھی مشکل ہو سکتی ہے۔ وہ بھی اس حالات میں اس عمل میں پریشانی کے زیادہ امکان رہتے ہیں۔ جب بچہ بیمار ہو بچوں میں خود سے ڈکار لینے کی بھی طاقت نہیں ہوتی۔ اس لئے کئی مرتبہ ڈاکٹر خواتین کو بچوں کو ڈکار دلوانے کیلئے بولتے ہیں۔


بچے کو دودھ پلانے کے بعد بچے کو سیدھا کھڑا کرکے بچے کے سر کو اپنے کندھے پر رکھنا چاہئے تاکہ سانس کی نالی میں دودھ جاکر سانس کو نہ روکے۔ اس کے بعد ماں کو بچے کی پیٹھ کو تب تک تھپتھپانا چاہئے جب تک بچہ ڈکار نہ لے۔ ماؤں کو یہ صلاح بھی دی جاتی ہے کہ وہ بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے سیدھا رکھے اس کا خاص خیال رکھے۔
First published: Nov 29, 2018 11:18 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading