உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ویکسین تک رسائی میں عالمی عدم مساوات کو حل کرنے کا طریقہ

    ویکسین تک رسائی میں عالمی عدم مساوات کو حل کرنے کا طریقہ

    ویکسین تک رسائی میں عالمی عدم مساوات کو حل کرنے کا طریقہ

    ہندوستان نے حال ہی میں ویکسین کی 85 کروڑ خوراکیں لگانے کا سنگ میل عبور کیا ہے۔ اگر ملک اپنی موجودہ رفتار کو برقرار رکھتا ہے، تو آئندہ سال کے اوائل تک ملک کے سارے بالغ شہریوں کو COVID-19 ویکسین لگ جائے گی۔

    • Share this:
      ہندوستان نے حال ہی میں ویکسین کی 85 کروڑ خوراکیں لگانے کا سنگ میل عبور کیا ہے۔ اگر ملک اپنی موجودہ رفتار کو برقرار رکھتا ہے، تو آئندہ سال کے اوائل تک ملک کے سارے بالغ شہریوں کو COVID-19 ویکسین لگ جائے گی۔ اس کامیابی کا سہرا ایک طرف تو ہمارے ویکسین مینوفیکچررز یعنی SII اور بھارت بایو ٹیک کو جاتا ہے، تو دوسری طرف ویکسین کے تعلق سے عوامی سطح پر بیداری بھی اس کیلئے انتہائی معاون ثابت ہوئی ہے، جیسا کہ فیڈرل بینک لیمیٹیڈ کی ایک سی ایس آر پیش قدمی ’ Network18سنجیونی۔ ایک ٹیکہ زندگی کا‘ کے زیر اہتمام کی جانے والی بیداری مہمات۔ لیکن ہمارے ملک جیسی عالمی معیشتوں کیلئے، اور خاص طور پر ہمارے ’وسو دیو کُٹُمبکُم‘ کی اقدار کے حامل ایک تہذیب کیلئے، اب ہندوستان کی تشاویش کو دنیا تک وسیع کرنا چاہئے اور عالمی سطح پر موجود ویکسین تک رسائی کے حوالے سے امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات پر نظر ڈالنی چاہئے جس کی وجہ سے وائر کے نئے متبادلات کے پھیلنے کا خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔

      عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی ویکسین کی غیر جانبدار انہ تقسیم کے گروپ (IAVG) کی تجویز کے مطابق، اس عدم مساوات کے ازالے کیلئے کئے جانے والے بنیادی کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ ویکسین پیدا کرنے اور اعلی کوَریج کے حامل ممالک ویکسین کے حوالے سے مساوات اور شفافیت کو ترجیح دیں۔ یہ COVAXIN ویکسین سپلائی کانٹریکٹس کو ترجیح دے کر اور ویکسین تفویض کر کے اور اس کی جمع خوری کو ختم کر کے ایسا کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے انتہائی زیادہ ویکسینز خراب اور ضائع ہو گئی ہیں۔ بھارت بھی ازالے کی ان کوششوں کا حصہ ہے اور ان ممالک کے ساتھ شامل ہے جنہوں نے ممالک کے کواڈ گروپ کے حصے کے طور پر 120 کروڑ ویکسین عطیہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس گروپ میں جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک شامل ہیں۔ ایسا کر کے ہندوستان نے تنگ نظری پر مبنی علاقائی اور قومی تشاویش سے بالا تر ہو کر اجتماعی مفاد میں کام کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

      مادی طور پر ممالک کی مدد کرنے کے علاوہ، ہندوستان ویکسین کے تئیں جھجھک کو ختم کرنے اور عوامی سطح پر ویکسینیشن کی کاوشوں کے طریقے سے متعلق کیس اسٹڈیز بھی فراہم کرتا ہے۔ فیڈرل بینک لمیٹیڈ کی سی ایس آر پیش قدمی ’ Network18سنجیونی ۔ ایک ٹیکہ زندگی کا‘ کی جانب سے ویکسین کے تئیں بیداری اور سبھی بھارتیوں تک رسائی سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ نجی ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں اور مہذب معاشرہ غلط معلومات کی رکاوٹوں کو توڑنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ اس نے اجتماعی کاوش کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے، جس کی مدد سے خاندانوں اور کمیونٹیز کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ویکسینیشن کو ایک قومی کاوش کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی ہدف اتنا بڑا نہیں ہوتا ہے جسے تھوڑی سے ہمت اور قوت ارادی سے عبور نہ کیا جا سکے۔

      یہ وہ خصوصیات جن کی اس وقت دنیا کو بھر پور ضرورت ہے۔ اس وقت جبکہ IAVG یہ پروجیکٹ کر رہا ہے کہ 2021 کے دوسرے نصف میں ویکسین کی سپلائی میں 25% گراوٹ آئے گی، دنیا کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر وسائل کی سمت تبدیل کرے اور کم ویکسین کوَریج والے ممالک کی مدد کرے۔ انفرادی شہریوں کے طور پر، ہمیں ویکسین کے حوالے سے مساوات اور بین الاقوامی یکجہتی کے آئیڈیلز کی حمایت کرنا چاہئے۔ ہمیں ان لوگوں تک پہنچنے میں مدد کرنی چاہئے جنہیں صحت اور امیونٹی کے بنیادی حقوق میسر نہیں ہیں۔ اور کیوں نہ ہو، وبا نسل، تہذیب یا مذہب کا لحاظ نہیں کرتی ہے۔

      COVID-19 ویکسین سے وابستہ تازہ ترین خبروں اور معلومات سے باخبر رہنے کیلئے، فیڈرل بینک لمیٹیڈ کی سی ایس آر پیش قدمی ’Network18-سنجیونی ۔ ایک ٹیکہ زندگی کا‘ کو فالو کریں اور ایک زیادہ صحت مند، محفوظ اور عدم مساوات سے پاک دنیا کی تعمیر میں مدد کریں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: