ہوم » نیوز » No Category

رائچور میں اقلیتوں کو درپیش مسائل کے خلاف ایس ڈی پی آئی نے کی بھوک ہڑتال

رائچور۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کرناٹک میں مہم چلارہی ہے ۔

  • ETV
  • Last Updated: Nov 30, 2016 07:42 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
رائچور میں اقلیتوں کو درپیش مسائل کے خلاف ایس ڈی پی آئی نے کی بھوک ہڑتال
رائچور۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کرناٹک میں مہم چلارہی ہے ۔

رائچور۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کرناٹک میں مہم چلارہی ہے ۔اس مہم کے تحت اقلیتوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹک کے رائچور میں ایس ڈی پی آئی کے لیڈروں نے ایک روزہ بھوک ہڑتال کی ۔سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ضلع رائچور کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ آزادی کے69 سال میں جتنی بھی پارٹیوں نے ہندوستان پر حکومت کی ہے، انہوں نے اقلیتوں کی ترقی کے لیے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے ملک کا اقلیتی طبقہ فخر کرسکے ۔ سیاسی جماعتوں کا ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ پانچ سال میں ایک مرتبہ اپنے انتخابی منشور میں صرف تشہیر کے لیے اقلیتوں کے کئی فلاحی وترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتی ہیں لیکن اقتدار حاصل ہونے کے بعد اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو یکسر نظرانداز کردیا جاتا ہے ۔


ایس ڈی پی آئی کے لیڈروں نے اقلیتوں کی ترقی کےلیے سال 2016-17میں 10ہزار کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کرنے، تمام اضلاع میں اقلیتی طلباء وطالبات کےلئے ڈگری سطح تک اقامتی تعلیمی ادارے قائم کرنے، ایس ایس سی اور پی یوسی کے طلباء کے لیے خصوصی کوچنگ کاانتظام کرنے، اقلیتوں کونجی شعبے میں ریزرویشن دینے، اقلیتی طبقے کی خواتین ملازمین کے لیے تمام اضلاع میں ہاسٹل قائم کرنے ، پندرہ نکاتی پروگرام ، سچرکمیٹی اور جسٹس رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کی موثر عمل آوری کا مرکزی اورریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ایس ڈی پی آئی رائچورکے لیڈروں نے مسلمانوں اور اقلیتوں کے مسائل حل ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔اس موقع پر پارٹی لیڈروں نے ڈپٹی کمشنر آفس کے حکام کے ذریعے وزیراعلیٰ سدرامیا کو ایک میمورنڈم روانہ کیا۔ بھوک ہڑتال پروگرام میں ضلع صدر عبدالمجاہد، پارٹی سٹی سکریٹری محمد اسمعیل، جوائنٹ سکریٹری خلیل احمد اور دیگر موجود تھے ۔

First published: Nov 30, 2016 07:42 PM IST