ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

دل سوز واقعہ: مسلم شخص کو کیا گیا ہندوؤں کے  قبرستان میں دفن، وجہ جان کر رودیں گے آپ

تمام کوشش کے باوجود اپنے والد کی کسی مسلم قبرستان میں تدفین کی اجازت نہ ملنے سے دل برداشتہ محمد پاشا کو لگاکہ اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا اور رات 8 بجے خواجہ میاں کو گندم گوڈا کے ہندو قبرستان میں دفن کردیا گیا ۔

  • Share this:
دل سوز واقعہ: مسلم شخص کو کیا گیا ہندوؤں کے  قبرستان میں دفن، وجہ جان کر رودیں گے آپ
تمام کوشش کے باوجود اپنے والد کی کسی مسلم قبرستان میں تدفین کی اجازت نہ ملنے سے دل برداشتہ محمد پاشا کو لگاکہ اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا اور رات 8 بجے خواجہ میاں کو گندم گوڈا کے ہندو قبرستان میں دفن کردیا گیا ۔

حیدرآباد میں پیش آئے ایک دل سوز واقعہ میں شہر کے مضافات میں واقع علاقہ حیدر شاہ کوٹ گندم گوڈا میں دل کا د ورہ پڑھنے سے مرنے والے غریب مسلمان کو اطراف کے چھ قبرستانوں میں دفنانے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا۔ مرحوم محمد خواجہ میاں کا تعلق تلنگانہ کے ضلع گدوال سے تھا۔ وہ دس سال سے گندم گوڈ ہ میں مقیم تھے جمعہ کے دن خواجہ میاں کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ جس جگہ ان کا گھر ہے اس کالونی کے بالکل قریب ایک درگاہ اور اس سے متصل مسجد اور ایک چھوٹا قبرستان ہے۔

مقامی مسلم عوام کی نمائندگی پر انتظامیہ نے درگاہ اور مسجد کے احاطہ کے بازو قبرستان کے لیے زمین الاٹ کی تھی۔ مقامی مسلمانوں نے کہا کہ اس کا نو ٹیفکشن کا بھی اجراء ہو چکا۔ جب مرحوم کے فرزند محمد پاشا نے اپنے والد کو دفنانے کے لیے وہاں قبر کھودنے کا آغاز کیا تو مقامی ریوینیو افسر نے اُنہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ اس کے بعد خواجہ میاں نے درگاہ کے احاطہ میں موجود پرانے قبرستان میں ان کے والد کو دفنانے کے لیے کمیٹی سے درخواست کی لیکن انہیں یہ کہا گیا کہ وہ یہاں کے مقامی نہیں ہیں اسلئے انہیں اسکی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کمیٹی نے محمد پاشا کے فرزند کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے والد کو اپنے وطن لے جا کر دفنا نے کا انتظام کریں۔ یہ جواب سن کر افسردہ محمد پاشا نے اس علاقہ کے اطراف و اکناف موجود مسلم قبرستانوں کے انتظامی کمیٹیوں سے اجازت طلب کی ۔



محمد پاشا نے کہا کہ انہوں نے چھ مسلم قبرستانوں سے اجازت طلب کی کہ ان کے والد کو دفنانے کی اجازت دیں لیکن سب نے کسی نہ کسی بہانے انکار کر دیا۔ محمد پاشا کی ان کوششوں میں شام ہو چکی تھی۔ لاک ڈاؤن کی مشکلات ، رات کا کرفیو ان کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے ایک مقامی نوجوان سندیپ نے انہیں مقامی ہندو قبرستان میں دفنانے کی پیشکش کی۔ سندیپ نے کہا کہ وہ صبح سے ہی محمد پاشا کے ساتھ تھے ۔ جب حکومت کے الاٹ کردہ قبرستان میں قبر کھودنے کی اجازت نہ ملی تو میں نے درگاہ کمیٹی سے التجاء کی کہ وقت اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے درگاہ سے متصل قدیم قبرستان میں تدفین کی اجازت دیں لیکن وہاں سے صاف انکار کے بعد ہم نے اطراف کے مسلم قبرستانوں میں بھی پتہ کیا وہاں سے بھی نہ کا جواب ملنے کے بعد میں نے محمد پاشا کی لا چاری کو دیکھتے ہوئے انہیں تجویز پیش کی کہ وہ مقامی ہندووں کے قبرستان کے ایک حصہ میں انہیں دفن کریں۔

تمام کوشش کے باوجود اپنے والد کی کسی مسلم قبرستان میں تدفین کی اجازت نہ ملنے سے دل برداشتہ محمد پاشا کو لگاکہ اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا اور رات 8 بجے خواجہ میاں کو گندم گوڈا کے ہندو قبرستان میں دفن کردیا گیا ۔
First published: May 24, 2020 10:22 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading