உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Khajaguda hills: حیدرآبادمیں خواجہ گوڈا پہاڑوں کوبچانےزبردست مہم، آخرکیاہےان پہاڑوں کی اہمیت؟

    تصویر: @swachhhyd

    تصویر: @swachhhyd

    اننت مریگنتی حیدرآباد اربن لیب کے سربراہ ہیں۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو شہری تحقیق اور کمیونٹی سے متعلق سرگرمیاں انجام دیتی ہیں۔ انھوں نے خواجہ گوڈا پہاڑوں کے تحفظ سے متعلق احتجاج سے خطاب کیا اور چٹانوں کی ماحولیاتی اہمیت کی وضاحت کی۔

    • Share this:
      ان دنوں حیدرآباد میں خواجہ گوڈا پہاڑوں (Khajaguda hills) کو بچانے کی مہم بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ جس کے لیے راکس کے تحفظ سے متعلق کارکنوں نے سال 2019 سے تلنگانہ ہائی کورٹ (Telangana High Court) کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے اتوار کو خواجہ گوڈا پہاڑیوں کے تاریخی مقام پر انگریزی اور تیلگو میں ڈسپلے بورڈز لگائے ہیں۔ وہ جلد ہی حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HMDA) اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ بھی دائر کریں گے۔

      کارکنوں اور شہریوں کے گروپوں نے اتوار کی صبح سویرے ایک احتجاج کا اہتمام کیا اور تحفظ کی کوششوں کے خلاف درپیش چیلنجوں اور اس معاملے کا مستقل حل نکالنے کے لیے درکار کوششوں کے بارے میں بھی بات کی۔


      توہین عدالت:

      احتجاج کے دوران ایک بورڈ پر لکھا ہے کہ سروے نمبر 450/1، 450/2، 448، 452، تلنگانہ ہائی کورٹ کے حکم امتناعی پی آئی ایل نمبر 51/2019 کے مطابق خواجہ گوڈا پہاڑی محفوظ مقامات میں سے ایک ہے۔


      کسی بھی چٹان یا پہاڑی کو کاٹ کر یا ڈمپنگ کے ذریعے کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا۔ اس سرگرمی کو انجام دینے والا اور اکسانے والے قانون کے تحت قابل سزا ہیں۔ خواجہ گوڈا فطرت پر مبنی ایک شاہکار ہے۔ یہ ہندوستان کے تین مذاہب کا پرامن بھائی چارہ کا حامل، پرسکون اور قدرتی وسائل سے مالا مال حصہ ہے‘‘۔


      جب کارکنان ایسے مقامات پر بورڈ لگانے کی کوش کررہے تھے، تو مقامی مندر کے حکام نے ان سے پوچھ گچھ کی۔ تقریباً ایک گھنٹے تک گرما گرم گفتگو ہوتی رہی۔ سیو خواجہ گوڈا گروپ (Save Khajaguda group) کے ارون نے ہائی کورٹ کے حکم کی وضاحت کی اور آخر میں سبھی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان پہاڑوں کی حفاظت کی جانی چاہئے اور مندر کے حکام نے بھی احتجاج میں حصہ لیا ہے۔

      چٹانوں کی ماحولیاتی اہمیت:

      اننت مریگنتی حیدرآباد اربن لیب کے سربراہ ہیں۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو شہری تحقیق اور کمیونٹی سے متعلق سرگرمیاں انجام دیتی ہیں۔ انھوں نے خواجہ گوڈا پہاڑوں کے تحفظ سے متعلق احتجاج سے خطاب کیا اور چٹانوں کی ماحولیاتی اہمیت کی وضاحت کی۔ اننت مریگنتی نے کہا کہ مندر، درگاہ، راک کوہ پیماؤں، واکرز اور قدرتی مناظر کے شائقین سب کو اکٹھا ہونا چاہیے کیونکہ یہ ہم سب کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔


      انھوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور ’ترقیاتی‘ سرگرمیوں کی وجہ سے ہم پہلے ہی بہت سی ایسی پہاڑیوں کو کھو چکے ہیں۔ اگر چٹان حرکت کرتی ہے تو پرندہ اپنا گھونسلہ کھو دیتا ہے، شہد کی مکھیاں اپنا مسکن کھو دیتی ہیں۔ پانی دور ہو جاتا ہے اور پودے مر جاتے ہیں۔

      آپ جنگل میں ایک جنگلی پاریجاتھم کے پودے (جیسمین) کو نہیں کاٹ سکتے اور پھر اس کی جگہ گلاب کا پودا نہیں لگا سکتے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: