உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیمی ہائی اسپیڈریلوےٹریک کےذریعے حیدرآباد اور بنگلورو کےسفرمیں ہوگی آسانی، جلدہوگافاصلہ طئے

    انڈین ریلوے (علامتی تصویر)

    انڈین ریلوے (علامتی تصویر)

    High Speed Railway Track: موجودہ ٹریک لے آؤٹ کے مطابق فی الحال دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ 622 کلومیٹر ہے۔ نئے گرین فیلڈ پروجیکٹ کے ساتھ ریلوے اس فاصلے کو 503 کلومیٹر تک کم کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ مجوزہ ٹریک بنگلورو کے یلہنکا کو سکندرآباد کے قریب امدا نگر سے جوڑتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Hyderabad | Mumbai | Ajmer | Lucknow
    • Share this:
      انڈیا انفرا ہب (India Infrahub) کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانی ریلوے (Indian Railways) کے تحت ایک نئی پہل کی جارہی ہے۔ بنگلورو اور حیدرآباد کے درمیان سفر کے وقت کو کم کرنے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرینوں کے لیے ایک تیز رفتار ریلوے ٹریک بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

      موجودہ ٹریک لے آؤٹ کے مطابق فی الحال دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ 622 کلومیٹر ہے۔ نئے گرین فیلڈ پروجیکٹ کے ساتھ ریلوے اس فاصلے کو 503 کلومیٹر تک کم کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ مجوزہ ٹریک بنگلورو کے یلہنکا کو سکندرآباد کے قریب امدا نگر سے جوڑتا ہے۔ یہ پی ایم گتی شکتی یوجنا کے تحت 30,000 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ ٹریک میں باڑ اور 1.5 میٹر اونچی دیواریں ہوں گی۔

      نئی لائن کے لیے الگ کنٹرول سسٹم اور سگنلنگ بھی تیار کیا جائے گا۔ ان خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریک بنایا جائے گا، تو ریلوے کو تقریباً 60 کروڑ روپے فی کلومیٹر لاگت آئے گی۔ بنگلورو اور حیدرآباد ہندوستان کی دو سلیکون ویلی کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ مذکورہ ریلوے کے تحت دونوں شہروں کے درمیان سفر کے وقت کو دو گھنٹے تک کم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ مجوزہ ٹریک کی تفصیلی رپورٹ پر کام جاری ہے اور جلد ہی پیش کیا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھئے: ’تعلیمی اداروں میں باصلاحیت اور صنعتوں کی ضروریات کو پورا کرنے والے طلبہ کو کیا جائے تیار‘
      یہ بھی پڑھئے: وارانسی کے ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویش کون ہیں؟ جنھوں نے سنایا گیانواپی مسجد کیس کا فیصلہ

      ریلوے فی الحال دہلی سے ہاوڑہ، اور دہلی سے ممبئی کے درمیان چلنے والی پٹریوں کو اپ گریڈ کرنے کی سمت کام کر رہا ہے، جس سے وہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرینوں کے لیے ہم آہنگ ہوں۔ تاہم دونوں آئی ٹی شہروں کے درمیان چلنے والے ٹریک کے لیے اپ گریڈیشن کا طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بلکہ ایک نیا ٹریک جو کہ سیمی ہائی سپیڈ ٹرینوں کے لیے مطابقت رکھتا ہو، اسے موجودہ ریگولر ٹریکس کے ساتھ بنایا جائے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: