ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

دو بے بس مسلم خواتین کیلئے فرشتہ ثابت ہوئے حیدرآباد کے تاجر راجندر اگروال ، کیا یہ کام ، جم کر ہورہی تعریف

لاک ڈاؤن اور بیرونی ممالک سے تارکین وطن کی اپنے ملک آمد ، ان پریشان حال مسافرین کو ایئر پورٹ سے باہر نکلتے ہی اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں ہے بلکہ ضابطہ کے مطابق انہیں کسی ہوٹل میں کوارنٹائن کیا جاتا ہے ۔

  • Share this:
دو بے بس مسلم خواتین کیلئے فرشتہ ثابت ہوئے حیدرآباد کے تاجر راجندر اگروال ، کیا یہ کام ، جم کر ہورہی تعریف
دو لاچار مسلم خواتین کیلئے فرشتہ ثابت ہوئے حیدرآباد کے تاجر راجندر اگروال ، کیا یہ کام ، جم کر ہورہی تعریف

زمین پر بھی فرشتے ہوتے ہیں ۔ یہ ثابت کیا حیدرآباد کے ایک تاجر راجندرا اگروال نے ، رات دیر گئے وہ اپنے ٹویٹر پر میسیجز چک کر رہے تھے کہ انہیں دو ایسی مسلم خواتین کے بارے میں معلوم ہوا ، جو دبئی سے حیدرآباد آنے کے بعد لازمی کوارنٹائن کی مدت تک قیام کیلئے رقم کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے پریشانی میں ہیں ۔


لاک ڈاؤن اور بیرونی ممالک سے تارکین وطن کی اپنے ملک آمد ، ان پریشان حال مسافرین کو ایئر پورٹ سے باہر نکلتے ہی اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں ہے بلکہ ضابطہ کے مطابق انہیں کسی ہوٹل میں کوارنٹائن کیا جاتا ہے ۔ جس کے لیے فی کس پندرہ ہزار روپے وصول کئے جا رہے ہیں ۔ تصور کیجئے اگر کسی تارک وطن کے پاس ادائیگی کے لیے پیسے نہ ہوں تو اس کی کیا حالت ہوتی ہو گی ۔


اس ہفتہ ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر ایک فلائٹ دبئی سے حیدرآباد انٹرنیشل ایئر پورٹ پر اتری ۔ مسافرین کو پندرہ روزہ  کوارنٹائن کیلئے گچی باؤلی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا ۔ ہوٹل  پہنچتے ہی تمام مسافرین سے کہا گیا کہ وہ ہوٹل میں یہ عرصہ گزارنے کیلئے پندرہ ہزار روپے ادا کریں ۔ مسافرین میں دو مسلم خواتین بھی تھیں ، جن کے پاس ادائیگی کے لیے اتنی رقم نہیں تھی ۔ تمام مسافرین کو تو ادائیگی کے بعد کمرے دے دئے گئے ۔ مگر ان دونوں خواتین کو ہوٹل کی لابی میں ہی روک لیا گیا ۔


رات دیر گئے دونوں لاچار خواتین کی بسی کے بارے میں مجلس بچاؤ تحریک کے لیڈر امجد اللہ خان کو معلوم ہوا ۔ امجد اللہ خان نے فوری اپنے ٹویٹر پر دونوں سے متعلق میسیج پوسٹ کیا ۔ راجندر اگروال حیدرآباد کے بزنس مین ہیں ، وہ مختلف سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ رات دیر گئے جب انہوں نے ٹویٹر پر امجد اللہ خان کا دو پریشان حال خواتین سے متعلق پوسٹ دیکھا ، تو انہوں نے ان کی مدد کا فیصلہ کیا اور اپنی بیگم کو لے کر فورا ہوٹل پہنچ گئے اور رقم کی ادائیگی کرکے وہاں ان کے قیام کا انتظام کروایا اور پھر گھر واپس آئے ۔

اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ دبئی سے اپنے وطن لوٹنے والوں کی جیب خالی نہیں ہوتی ہے ، لیکن دونوں خواتین ایسے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ، جو کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہیں ۔ ایسے میں جب یہ دونوں خواتین اپنے وطن حیدرآباد میں ہوٹل میں ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے لاچاری محسوس کر رہی تھیں تو ان کیلئے راجندر اگروال فرشتہ ثابت ہوئے ۔ حیدرآبادی تاجر راجندر اگروال نے ثابت کردیا کہ اس نفسہ نفسی کے عالم میں آج بھی انسانیت زندہ ہے ۔
First published: May 25, 2020 05:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading