ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پھر کشیدگی، وائس چانسلر کے کوارٹر پر طلبہ کا حملہ

حیدرآباد ۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھی گئی کیونکہ طلبہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپاراو کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے ان کے فلیٹ پر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی ۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 22, 2016 01:40 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پھر کشیدگی، وائس چانسلر کے کوارٹر پر طلبہ کا حملہ
حیدرآباد ۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھی گئی کیونکہ طلبہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپاراو کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے ان کے فلیٹ پر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی ۔

حیدرآباد ۔  یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھی گئی کیونکہ طلبہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپاراو کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے ان کے فلیٹ پر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی ۔ دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی خودکشی کے واقعہ کے بعد اپا راو رخصت پر چلے گئے تھے ۔ وہ دو ماہ کے بعد دوبارہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے یونیورسٹی پہنچے تھے۔طلبا نے وائس چانسلر کے کوارٹر پر حملہ کرکے فرنیچر کو نقصان پہنچایا اور وہاں رکھی ہوئی اشیا ٹی وی اور دوسرے سامان کو بھی توڑڈالا۔ وائس چانسلر روہت کے معاملہ پر پریس کانفرنس کرنے والے تھے ۔طلبا نے اپا راو کو روہت کی موت کا ذمہ دار قرار دیا اور ان پر شدید برہمی کااظہار بھی کیا ۔ طلبا کے حملہ میں میڈیا کے نمائندے بھی زخمی ہوگئے ۔


اپا راؤ کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کی اطلاع پر طلبا وہاں پہونچے تھے ۔ اس حملہ کے بعد یونیورسٹی میں کشیدگی دیکھی گئی ۔ طلبا نے وائس چانسلر کے خلاف نعرے بھی لگائے ۔ اس موقع پر طلبا کے دو گروپوں کی نعرے بازی بھی دیکھی گئی ۔ ایک گروپ نے وائس چانسلر کی حمایت میں اور دوسرے گروپ نے مخالفت میں نعرے لگائے ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس وہاں پہونچی اور پولیس کا یونیورسٹی کیمپس میں سخت بندوبست دیکھا گیا ۔ اسی دوران پتہ چلا ہے کہ جے این طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار جن کے خلاف ’ملک سے غداری‘ کا معاملہ درج کیا گیا ہے ‘ بدھ کے روز  یونیورسٹی آف حیدرآباد کا دورہ کررہے ہیں ۔


روہت کی خودکشی کے واقعہ کے بعد پروفیسر اپا راؤ طویل رخصت پر چلے گئے تھے ۔ طلبا نے وائس چانسلر کا گھیراؤ بھی کیا اور گیسٹ ہاؤس میں انہیں بند بھی کردیا ۔ طلبا نے انہیں اطلاع دیئے بغیر کارگذار وائس چانسلر پیرا سوامی سے دوبارہ اپنا راؤ کے ذمہ داری قبول کرنے پر شدید احتجاج کیا ۔ اس واقعہ میں بعض طلبہ زخمی بھی ہوئے ۔ احتجاجی طلبہ نے الزام لگایا کہ وائس چانسلر کی واپسی پر اے بی وی پی اور آر ایس ایس کے طلبا ہم خیال اساتذہ کے ساتھ وائس چانسلر سے ملاقات کیلئے گئے تھے ۔ احتجاجی طلبا نے پتھر اؤ کا بھی دوسرے طلبا پر الزام لگایا ۔

First published: Mar 22, 2016 01:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading