ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کووڈ19 سےخوف کا ماحول:  سرکاری اسپتالوں کے طبی عملہ میں کوروناوائرس کے معاملوں میں اضافہ

ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ فرنٹ لائن میں کام کرنے والے عملہ کی حفاظت کے ناکافی اقدامات کی طرف بار توجہ کے باوجود ریاستی حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

  • Share this:
کووڈ19 سےخوف کا ماحول:  سرکاری اسپتالوں کے طبی عملہ میں کوروناوائرس کے معاملوں میں اضافہ
ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ فرنٹ لائن میں کام کرنے والے عملہ کی حفاظت کے ناکافی اقدامات کی طرف بار توجہ کے باوجود ریاستی حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

لگتا ہے صرف علامات ظاہر ہونے پر ہی کورونا وائرس ٹیسٹ کی پالیسی تلنگانہ حکومت کو مشکلات میں ڈال رہی ہے۔  حیدرآباد کے بڑے سرکاری اسپتالوں جیسے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل ، گاندھی ہاسپٹل ، گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل پٹلہ برج اور نیم سرکاری نظامس انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز کے   عملہ کے جملہ 48 اراکین کے کورونا سے متاثر ہونے کی توثیق ہوئی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں خود اسپتالوں کے عملہ کے متاثر ہونے کے بعد ڈاکٹرز کی اسو سی ایشنس نے اسے ریاستی حکومت کی لا پرواہی سے تعبیر کیا ہے ۔ ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ فرنٹ لائن میں کام کرنے والے عملہ کی حفاظت کے ناکافی اقدامات کی طرف بار توجہ کے باوجود  ریاستی حکومت نے  اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ خاص طور پر اسپتالوں کے عملہ کے لیے کوویڈ ٹیسٹ کروانے کے مطالبہ کو نظر انداز کردیا گیا۔ ڈاکٹرس کا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت ڈیوٹی کے بعد انکے قیام کا بھی بندوبست کرے کیونکہ یہ نہیں چاہتے کہ  ڈیوٹی سے   واپس اپنے ٹھکانوں کو جاکر وہ دوسروں کو کسی خطرہ میں مبتلا کریں۔ یہ بھی مطالبہ ہے مریضوں کے وارڈز کے ساتھ ہی ساتھ آپریشن تھیٹرز ، ایکسرے لیبس کی اچھی طرح ڈبلیو ایچ او پروٹوکول کے مطابق اچھی طرح صفائی اور سانیٹائزیشن کے انتظامات کیے جائیں۔  طبی عملے کے متاثرین کی بڑی تعداد پوسٹ گریجویٹ اسٹوڈنٹس کی ہے ۔ مطالبہ ہے کہ ان کے لیے معیاری پرسنل پرٹکشن ایکوپمنٹ کیٹس سربراہ کیے جائیں ۔

سب سے پہلے ڈاکٹر کے کورونا سے متاثر ہونے کا واقعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب اس نے  زجگی کے لیے سی سکش کیا تھا اور وہ خاتون بعد میں کورونا مثبت پائی گئی تھی ۔ جسکے بعد اس خاتون سے رابطہ میں آنیوالوں کی جانچ سے ڈاکٹر بھی پوزیٹیو پائی گئی ۔ اس واقعہ کے بعد ریاستی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کے اسٹاف کی بھی کورونا کے لیے جانچ کے اقدامات کیے ۔


بڑی تعداد میں ہسپتالوں کے عملہ کے اراکین کے متاثر ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے پوزیٹو پائے گئے ڈاکٹرس کے  کوارنٹاین  کرنے کے انتظامات کے لیے بھی رضامند ہوئی ہے

جن سرکاری اسپتالوں میں طبی عملہ سے تعلق رکھنے والوں کو کورونا پوزیٹو ہوا ہے ان میں گاندھی ہاسپٹل بھی ہے جو ریاست بھر سے آئے کورونا کے متاثرین کے علاج کے لیے مختص کردیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر  اسپتالوں کے عملہ کو ہی مناسب سہولتیں نہیں تو وہاں زیرِ علاج مریضوں کا کیا حال ہوگا ۔ گاندھی ہسپتال سے متعلق تلنگانہ حکو مت بلند دعوے ہیں ۔ لیکن وہاں وارڈز   اور ٹوائلٹس میں صفائی کی صورتحال پر سوشل میڈیا پر  وائرل ویڈیوز ان دعووں کی نفی کرتے ہیں ۔ دو دن پہلے اسپتال کے ایک جنرل وارڈ میں ایک سیلنگ فیان کے چھت سے گرنے کا بھی واقعہ منظر عام پر آیا ہے جس میں ایک مریض بال بال بچ گیا ۔ اسکے علاوہ گاندھی ہاسپٹل کے وارڈز میں بیڈز کے درمیان کم فاصلہ پر بھی تنقید کی جا رہی ہے ۔


حالات کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا  ریاستی حکومت میں اب اتنی استطاعت نہیں رہی گئی ہے کہ وہ کورونا سے مزید نبرآزما ہو سکے ۔
تلنگانہ میں کورونا کے کیسیز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد گزشتہ دو ہفتوں میں ریاست میں کورونا کے  کیسیز کی جملہ تعداد  دوگنی ہو چکی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا  اس ماحول میں کورونا کے علامات ظاہر  ہونے پر عوام    کورونا کے لیے مختص سرکاری ہسپتالوں کے بجائے اپنے علاج کے لیے نجی  کارپوریٹ ہاسپٹلس کا رخ کریں ۔ کیا ریاستی حکومت کی بھی یہی منشاء ہے؟
First published: Jun 05, 2020 07:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading