ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کورونا سے جنگ جیتنے کے بعد اپنوں سے ملی ہار ، 93 سالہ خاتون کو اہل خانہ نے گھر لے جانے سے کیا انکار ، جانئے کیوں

حیدرآباد کے گاندھی استپال میں ایسے 50 لوگ ہیں ، جو علاج کے بعد کورونا نیگیٹیو ہو کر اسپتال سے ڈسچارج کر دئے گئے ہیں ، لیکن انہیں گھر لے جانے کے لئے کوئی نہیں آیا -

  • Share this:
کورونا سے جنگ جیتنے کے بعد اپنوں سے ملی ہار ، 93 سالہ خاتون کو اہل خانہ نے گھر لے جانے سے کیا انکار ، جانئے کیوں
کورونا سے جنگ جیتنے کے بعد اپنوں سے ملی ہار ، 93 سالہ خاتون کو اہل خانہ نے گھر لے جانے سے کیا انکار ، جانئے کیوں ۔ فائل فوٹو ۔

حیدرآباد  میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے مختص سرکاری گاندھی اسپتال میں  17 روزہ علاج کے بعد ایک 93 سالہ سن رسیدہ خاتون کو کورونا نیگیٹیو قرار دیتے ہوئے ڈسچارج کر دیا گیا ۔ اس خاتون کو ان کے بیٹے اور دو پوتوں کے  ساتھ تین جون کو گاندھی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا ۔ ایک ہفتہ بعد ان کے بیٹے کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد بزرگ خاتون اور ان کے دونوں پوتے علاج کے بعد کورونا نیگیٹیو پائے گئے ۔ لہٰذا ان کے افراد خاندان کو مطلع کیا گیا کہ وہ انہیں واپس لے جائیں ۔ لیکن  ان کے خاندان نے دونوں لڑکوں کو تو واپس لے لیا ، لیکن اس ضعیف خاتون کو اسپتال میں ہی چھوڑ کر چلے گئے ۔


کورونا سے صحت یاب اس بزرگ خاتون کے دو لڑکے ہیں ۔ ایک لڑکا امریکہ میں مقیم ہے ۔ وہ حیدرآباد میں مقیم اپنے دوسرے لڑکے کے ساتھ رہتی تھی ، جس کی کورونا سے موت ہوگئی ۔ ضعیف خاتون کے خاندان والوں کو شبہ ہے کہ وہ کورونا سے پوری طرح شفایاب نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے گاندھی اسپتال کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے ۔


ادھر گاندھی اسپتال کے نوڈل افسر ڈاکٹر پربھا کر راؤ نے کہا کہ بزرگ خاتون مکمل طور پر صحتیاب ہیں ۔ ہم نے ان کے حیدرآباد میں مقیم رشتہِ داروں کے علاوہ بیرون ملک ان کے فرزند سے بھی رابطہ قائم کیا ، لیکن اس کے باوجود وہ انہیں واپس لے جانے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ ان کا اصرار ہے کہ دوبارہ جانچ ہو۔ جبکہ آئی سی ایم آر کے ضوابط کے مطابق اگرمریض کو کوئی علامات نہ ہو ، تو ڈسچارج ہونے سے پہلے اس کے جانچ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔


93 سالہ بزرگ خاتون اسپتال سے ڈسچارج ہو جانے کے باوجود گھر واپس نہ جانے والی واحد فرد نہیں ہیں ۔ حیدرآباد کے گاندھی استپال میں ایسے ہی 50 اور لوگ  ہیں ، جو علاج کے بعد کورونا نیگیٹیو ہو کر اسپتال سے ڈسچارج  کر دئے گئے ہیں ، لیکن انہیں گھر لے جانے کے لئے کوئی نہیں آیا - اس کے باوجود کہ ان کے خاندان اور رشتے داروں کو اس کی خبر کردی گئی ۔ اپنے رشتے داروں سے مایوس ہو کر ان لوگوں نے اسپتال انتظامیہ سے گزارش کی کہ انہیں دوبارہ بھرتی کرلیا جائے ۔  اسپتال انتظامیہ نے ان کی مجبوری کو محسوس کرتے ہوئے انہیں  دوبارہ  اسپتال میں ہی رہنے کی اجازت دے دی ہے ۔

گاندھی اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ ایک عجیب صورتحال ہے ۔  کورونا سے منسوب غلط فہمیوں کی وجہ سے خوفزدہ عوام خود اپنے والدین تک کو واپس گھر لے جانے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ ہم نے اس قسم کے بعض ضعیف افراد کے لئے بیڈز کا انتظام کیا ہے اور باقی کو نیچر کیور اسپتال کے کوارنٹین سنٹر میں منتقل کیا گیا ہے ۔

حیدرآباد میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسیز اور ان کیلئے بیڈز کی کمی کی صورتحال کو دیکھ کر یہ کہا کا سکتا ہے کہ سرکاری اسپتال زیادہ دنوں تک ان بے بس افراد کے قیام کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد وہ جائیں تو کہاں جائیں ؟
First published: Jun 26, 2020 08:22 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading