ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

حیدرآباد اجتماعی عصمت دری معاملہ: سامنے آیا نیا سی سی ٹی وی فوٹیج، اسی کے سہارے پولیس نے پکڑے تھے سارے ملزم

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اسی سی سی ٹی وی فوٹیج کے سہارے پولیس ملزموں تک پہنچی تھی۔ شمش آباد ٹول پلازا کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ٹرک تیزی سے دو لین کراس کر جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔

  • Share this:
حیدرآباد اجتماعی عصمت دری معاملہ: سامنے آیا نیا سی سی ٹی وی فوٹیج، اسی کے سہارے پولیس نے پکڑے تھے سارے ملزم
دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اسی سی سی ٹی وی فوٹیج کے سہارے پولیس ملزموں تک پہنچی تھی۔ شمش آباد ٹول پلازا کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ٹرک تیزی سے دو لین کراس کر جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے حیدرآباد میں ویٹرنری ڈاکٹر دشا بدلا ہوا نام کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور پھر جلا کر مار ڈالنے کے معاملے میں ایک نیا سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آیا ہے۔ دراصل شمش آباد ٹول پلازا سے 27 نومبر کی رات چار ٹرک ڈرائیور اور کلینر نے ویٹرنری ڈاکٹر کو اغوا کر لیا تھا۔ اس کے بعد ان کی لاش کو ٹول پلازا سے کافی دور لے جاکر پٹرول اور ڈیزل آگ کے حوالے کردیا۔ پولیس نے 48 گھنٹے کے اندر ملزموں کو پکڑ لیا۔ پولیس کو ملزموں تک پہنچنے میں تکنیکی ثبوتوں سے کافی مدد ملی تھی۔

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اسی سی سی ٹی وی فوٹیج کے سہارے پولیس ملزموں تک پہنچی تھی۔ شمش آباد ٹول پلازا کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ٹرک تیزی سے دو لین کراس کر جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ملزم ریپ اور قتل کے بعد ڈاکٹر کی لاش کو اسی ٹرک میں ڈال کر ٹول پلازا سے لے گئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے پہلے خاتون ڈاکٹر کی اسکوٹی کو ٹھکانے لگایا۔ پھر ان کی لاش کو سنسان علاقے میں لے جاکر انڈر پاس کے نیچے پٹرول اور ڈیزل ڈال کر آگ کے حوالے کردیا تھا۔

اجتماعی عصمت دری اور قتل کے بعد اور پھر لاش کوجلانے کے اس معاملے میں تلنگانہ  کی سائبرآباد پولیس نے چار لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں دو ٹرک کے ڈرائیور اور دو کلینر تھے۔ ملزم کی پہچان محمد پاشا، نوین، کیشاولو اور شیوا کے طور پر ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزموں نے پہلے متاثرہ کو اغوا کیا اور پھر ریپ کیا۔ بعد میں اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ تمام ملزموں کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اب دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے جس کی بنیاد پر ملزموں کی گرفتاری ہوئی تھی۔

معاملے میں چاروں ملزم 6 دسمبر کی صبح پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے۔ پولیس کمشنر سی پی سجنار نے جمعہ کو بتایا کہ ریمانڈ کے چوتھے دن انہیں باہر لیکر جایا گیا۔ انہوں نے کئی ثبوت دئے۔ آگے ثبوت جمع کرنے کیلئے انہیں پھر باہر لیکر جایا گیا۔ اسی دوران انہوں نے پولیس پر حملہ بول دیا۔ اسی دوران ملزم محمد عارف اور کیشاوولو نے ہتھیار چھین لیا۔ وہ فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی فراق میں تھے۔ چاروں ملزموں کی موت گولی لگنے کے سبب ہوئی ہے۔ اس دوران سب۔انسپکٹر اور کانسٹیبل زخمی ہوگئے تھے۔

First published: Dec 10, 2019 12:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading