உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderabad: حیدرآبادمیں سکوں کےمیوزیم کا آغاز، 119 سال پرانےہندوستانی سکوں کاہوگادیدار

    نواب نجف علی خان کو میوزیم میں تہنیت پیش کی گئی

    نواب نجف علی خان کو میوزیم میں تہنیت پیش کی گئی

    میوزیم 8 جون سے 13 جون تک صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک لوگوں کے لیے کھلا رہے گا۔ سوشل میڈیا پر تقریب سے متعلق شیئر کی گئی تصاویر میں میوزیم کے اعلیٰ حکام اور کئی سکوں کو خوب پسند کیا جارہا ہے۔

    • Share this:
      منگل کے روز حیدرآباد کے سیف آباد منٹ میں سکوں کے میوزیم کا آغاز کیا گیا ہے۔ جو کہ 75 ویں یوم آزادی کی "آزادی کا امرت مہوتسو" (Azadi Ka Amrit Mahotsav) کی تقریبات کا حصہ ہے۔ یہ میوزیم سکہ سازی کی تاریخ کو یاد دلانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اسی لیے حیدرآباد میں سکے کی نمائش کا افتتاح کیا گیا۔

      نمائش میں سکوں کی تاریخ، انہیں کیسے بنایا گیا اور انہیں بنانے میں استعمال ہونے والی اشیاء کی نمائش کی گئی ہے۔ ہندوستان میں پرائیویٹ ٹکسال 1803 میں قائم ہوئی تھی اور مقامی طور پر تیار کردہ سکے یہاں پر ٹکسال ہونے لگے تھے۔

      میوزیم کی تفصیلات
      میوزیم کی تفصیلات


      میوزیم 8 جون سے 13 جون تک صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک لوگوں کے لیے کھلا رہے گا۔ سوشل میڈیا پر تقریب سے متعلق شیئر کی گئی تصاویر میں میوزیم کے اعلیٰ حکام اور کئی سکوں کو خوب پسند کیا جارہا ہے۔

      مزید پڑھیں: امرناتھ یاترا 2022: سیکورٹی امور کا جائزہ لینے کی غرض سے پولیس کے اعلیٰ افسران خود کر رہے ہیں نگرانی


      انڈین گورنمنٹ منٹ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر منٹ ترپتی پترا گوش نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا آزادی کا امرت مہوتسو ہمارے لیے ایک جشن ہے اور وزیر اعظم مودی نے اسے عوام کے ساتھ منانے کو کہا ہے۔ اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ سیف آباد ٹکسال کے بارے میں جانے جو 1903 میں شروع ہوا تھا۔


      مزید پڑھیں: UPI-Credit Card لنکنگ کا آر بی آئی نے آج کیا اعلان، کتنے ہونگے چارجز؟ جانیے تفصیلات

      انھوں نے مزید کہا کہ ہم سب سے درخواست کرتے ہیں کہ آئیں اور سکوں کی بھرپور تاریخ کا مشاہدہ کریں۔ یہ شروع میں تین روزہ پروگرام ہے جس میں ہم آزادی کے بعد سکوں کے ارتقاء کو دکھا رہے ہیں۔ یہ تین دن رات 10 بجے سے شام 6 بجے تک کھلا رہے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: