உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderabad: کوٹھی سرکاری اسپتال میں بڑی پہل، درد زہ کو کم کرنے لافنگ گیس کا پہلی بار استعمال

    ’محکمہ صحت اس کو ریاست بھر کے ہر سرکاری ہسپتال میں نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے‘۔

    ’محکمہ صحت اس کو ریاست بھر کے ہر سرکاری ہسپتال میں نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے‘۔

    کنگ کوٹھی کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ ڈاکٹر جلاجا ویرونیکا نے کہا کہ حاملہ خواتین جو شدید دردِ زہ سے دوچار ہیں اب انہیں کچھ راحت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد کے ایک سرکاری اسپتال میں تعینات کیا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا سامان ہے۔

    • Share this:
      زچگی کے دوران خواتین کے درد اور تکلیف کو کم کرنے کے لیے حیدرآباد کے سرکاری کنگ کوٹھی ضلع اسپتال میں بچے کی پیدائش کے عمل کے دوران ہنسی والی گیس، یا اینٹونوکس (ایک گیس جو نائٹرس آکسائیڈ اور آکسیجن کا مرکب ہے) کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

      کنگ کوٹھی کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ ڈاکٹر جلاجا ویرونیکا نے کہا کہ حاملہ خواتین جو شدید دردِ زہ سے دوچار ہیں اب انہیں کچھ راحت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد کے ایک سرکاری اسپتال میں تعینات کیا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا سامان ہے۔

      انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس آلات کی مدد سے مشقت سے گزرنے والی خواتین آکسیجن اور ہنسنے والی گیس کے اس مرکب کو سانس لے کر اپنا درد کم کر سکتی ہیں۔

      انھوں نے کہا کہ ہر سکڑاؤ میں گیس میں سانس لینا شامل ہے۔ مریض کے درد کی حد پر منحصر ہے، یہ گیسیں 15 تا 20 سیکنڈ کے اندر اندر حسی اعصاب پر کام کرنا شروع کر دیتی ہیں اور ایک سے دو منٹ تک درد سے نجات فراہم کرتی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: Online Gaming:آگرہ میں بیٹے نے موبائل پرکھیلاآن لائن گیم،والدکے اکاونٹ سے کٹ گئے 39 لاکھ

      اس عمل کے بارے میں پوچھے جانے پر اس نے بتایا کہ لیبر کے وقت جب خواتین درد برداشت نہیں کر سکتیں، تو ہم انہیں ایک آکسیجن ماسک دیں گے جو Entonox کے سلنڈر سے جڑا ہو گا۔ جب مریض گہری سانس خارج کرتا ہے، تو گیس اس کے جسم میں جانے میں مدد کرتی ہے اور اسے درد کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: Facebook Meta Pay:ڈیجیٹل والیٹ’فیس بک پے‘کانام’میٹا پے‘کیا گیا،جانیے اب کیاہوں گی تبدیلیاں

      جلاجا نے بتایا کہ اب تک 13 حاملہ خواتین نے اسپتال میں بچے کی پیدائش کے دوران فارمولہ استعمال کیا ہے جب سے یہ پہلی بار 12 مئی کو استعمال کیا گیا تھا۔

      مزید برآں اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ محکمہ صحت اس کو ریاست بھر کے ہر سرکاری ہسپتال میں نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: