ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بی جے پی کی بی ٹیم بتانے پر اسد الدین اویسی کا جوابی حملہ ، میں ایک لیلا ہوں اور میرے ہزاروں مجنوں ہیں

گریٹر حیدرآباد میونسپل الیکشن کیلئے یکم دسمبر کو ووٹنگ ہوگی ۔ اس کو 2023 کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات کا لٹمس ٹیسٹ مانا جارہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے کے سی آر اور اویسی کے مضبوط قلع میں اپنے سینئر لیڈروں کی فوج اتار دی ہے ۔

  • Share this:
بی جے پی کی بی ٹیم بتانے پر اسد الدین اویسی کا جوابی حملہ ، میں ایک لیلا ہوں اور میرے ہزاروں مجنوں ہیں
بی جے پی کی بی ٹیم بتانے پر اویسی کا جواب ، میں ایک لیلا ہوں اور میرے ہزاروں مجنوں ہیں

گریٹر حیدرآباد میونسپل الیکشن کیلئے یکم دسمبر کو ووٹنگ ہوگی ۔ اس مقامی الیکشن کو لے کر بی جے پی اور ایم آئی ایم نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔ دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کے درمیان سیاسی بیان بازی بھی جاری ہے ۔ اس درمیان اویسی نے اپنی پارٹی ایم آئی ایم کو بی جے پی کی بی ٹیم بتانے پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ اویسی نے کہا کہ میرا حال ایسا ہے کہ میں ایک لیلا ہوں اور میرے ہزاروں مجنوں ہیں ۔ اویسی کا کہنا تھا کہ سبھی پارٹیاں مجھے ایشو بناکر فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔


اویسی نے اتوار کو حیدرآباد کے ایک نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو میں یہ باتیں کہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں کانگریس نے کہہ دیا کہ میں بی جے پی کے ساتھ ووٹ کٹوا ہوں ، بی ٹیم ہوں ، یہاں حیدرآباد میں کانگریس کہہ رہی ہے کہ اگر اویسی نہیں تو ہم کو ووٹ دیدو ، بی جے پی کچھ اور کہہ رہی ہے ، مجھے کوئی فکر نہیں ہے ۔ اویسی نے مزید کہا کہ یہ سب دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ میں ایک لیلا ہوں اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ مجھے ایشو بناکر ووٹ حاصل کیا جائے ۔ حیدرآباد کے عوام یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسد الدین اویسی کی پارٹی حیدرآباد کے ہر پہلو کو بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ یہ بات تو اب عوام ہی طے کریں گے۔


انٹرویو میں جب اویسی سے پوچھا گیا کہ امت شاہ پوچھتے ہیں کہ جب حیدرآباد میں سیلاب آیا تو اویسی بھائی اور ٹی آر یس کہاں تھی ۔ اس کے جواب میں اویسی نے کہا کہ امت شاہ کے صلاح کار ناسمجھ ہیں ۔ اکبر الدین اویسی نے ساڑھے تین کروڑ کی امداد تقسیم کی ۔ ہمارے پاس اس کے ویزوئلس موجود ہیں ۔ ہم لوگوں کی جان بچا رہے تھے ۔ ہم نے وزیر اعلی سے مل کر ہر گھر کو دس ہزار روپے دلوائے ۔


اویسی نے مزید کہا کہ ہم نے ہندو دیکھا نہ مسلمان ، ہر شخص کی مدد کی ۔ اس وقت بی جے پی سو رہی تھی ۔ ایم آئی ایم کے ایم ایل ایز اور وزیر اعلی کے علاوہ کوئی سیلاب متاثرہ علاقوں میں نہیں گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں امت شاہ پر الزام لگا رہا ہوں کہ آپ نے حیدرآبد کے عوام کے ساتھ جھوٹ بول کر انہیں ایک روپے نہیں دلوایا ۔ کرناٹک کے سیلاب میں پیسہ دیا ، اگر حیدرآباد میں لوگوں کو پیسے ملتے تو ایک ایک گھر کو 80 ہزارسے ایک لاکھ روپے تک مل جاتے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 30, 2020 01:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading