உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderabad: نظام دور میں تعمیر کردہ کنویں کی بحالی، حیدرآباد کے دیگرکنوؤں کی صفائی پربھی زور

    فلم پروڈیوسر شوبو یارلاگڈا (Shobu Yarlagadda) نے حال ہی میں کنویں کا دورہ کیا اور اس کنویں کی بحالی کے لیے رین واٹر پروجیکٹ کے تحت ماہر ماحولیات کلپنا رمیش (Kalpana Ramesh) اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ شوبو نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کچھ مہینے پہلے کچرے کے ڈھیر کی صفائی کے بعد اس میں حیرت انگیز تبدیلی ہوئی ہے!

    فلم پروڈیوسر شوبو یارلاگڈا (Shobu Yarlagadda) نے حال ہی میں کنویں کا دورہ کیا اور اس کنویں کی بحالی کے لیے رین واٹر پروجیکٹ کے تحت ماہر ماحولیات کلپنا رمیش (Kalpana Ramesh) اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ شوبو نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کچھ مہینے پہلے کچرے کے ڈھیر کی صفائی کے بعد اس میں حیرت انگیز تبدیلی ہوئی ہے!

    فلم پروڈیوسر شوبو یارلاگڈا (Shobu Yarlagadda) نے حال ہی میں کنویں کا دورہ کیا اور اس کنویں کی بحالی کے لیے رین واٹر پروجیکٹ کے تحت ماہر ماحولیات کلپنا رمیش (Kalpana Ramesh) اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ شوبو نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کچھ مہینے پہلے کچرے کے ڈھیر کی صفائی کے بعد اس میں حیرت انگیز تبدیلی ہوئی ہے!

    • Share this:
      سکندرآباد میں واقع بنسی لال پیٹ میں نظام دور کے ایک کنویں کی بحالی کی گئی ہے، جس کی گزشتہ چند دنوں سے مرمت اور تزئین و آرائش کی جا رہی تھی۔ یہ کنواں ماضی میں بنسی لال پیٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں لوگوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کا ذریعہ تھا۔ تاہم یہ تاریخی کنواں کئی سال سے ڈمپنگ گراؤنڈ میں تبدیل ہو چکا تھا۔

      فلم پروڈیوسر شوبو یارلاگڈا (Shobu Yarlagadda) نے حال ہی میں کنویں کا دورہ کیا اور اس کنویں کی بحالی کے لیے رین واٹر پروجیکٹ کے تحت ماہر ماحولیات کلپنا رمیش (Kalpana Ramesh) اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ شوبو نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کچھ مہینے پہلے کچرے کے ڈھیر کی صفائی کے بعد اس میں حیرت انگیز تبدیلی ہوئی ہے!

      کلپنا رمیش نے کنویں کے دورے اور اس کی صفائی کے لیے اظہار تشکر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ اس کنواں کی بحالی کے لیے شکریہ! ہمارے شہر میں اس طرح کے بہت سے کنوؤں کی مرمت اور ترئین کاری کی ضرورت ہے جو ڈمپ یارڈ میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ یہ کنویں آنے والی نسلوں کے لیے مقامی پانی کی حفاظت کا اہم ذریعہ ہے۔



      دی ہندو میں شائع سیریش نانی سیٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کالونی کو سیٹھ بنسی لال (Seth Bansilal) نے تیار کیا تھا، جو اپنے دور کے ایک امیر ترین شخص تھے۔ اس کنویں کے آس پاس اور بھوئی گوڈا کے ایک حصے میں اس کے گرد چھوٹے چھوٹے مکانات کے ساتھ ایک کھیل کا میدان بھی تھا۔ کچھ گھروں میں اب بھی وہ نمبر ہے جو اس وقت نصب کیے گئے تھے۔ پھر اس علاقے کا نام بنسی لال پیٹ (Bansilalpet) رکھا گیا۔ سال 2003 کے آخر تک بھی کالونی کا قدیم بنیادی ڈھانچہ برقرار رکھا گیا۔

      مذکورہ رپورٹ کے مطابق جنوری 1938 میں جب برطانوی وائسرائے لنلتھگو (British Viceroy Linlithgow) نے حیدرآباد کا دورہ کیا، تو انھوں نے بنسی لال پیٹ ماڈل ولیج کا دورہ کیا۔ لنلتھگو کا استقبال سیٹھ پنالال بنسی لال اور سیٹھ گووردھن لال بنسی لال نے کیا، جو سیٹھ بنسی لال کے بیٹے تھے۔ اب یہاں ایک عظیم الشان رسمی داخلی دروازہ ہے جس پر پان، چائے اور اسنیکس فروخت کرنے والی مختلف دکانوں کا قبضہ ہے۔ واحد نشان وہ سنگ بنیاد ہے جو 13 فروری 1933 کو ایک برطانوی باشندے نے رکھا تھا۔

      سیریش نانی سیٹی نے لکھا ہے کہ مورخین کی ابتدائی تحقیق کے مطابق یہ کنواں سیٹھ بنسی لال کی رہائشی کالونی کی تعمیر سے پہلے کا ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے پر تحقیق کرنے والے ایک معمار مورخ نے کہا کہ ہمیں کنویں کی مکمل ساخت اور تعمیراتی انداز جاننے کی ضرورت ہے۔ ہم صرف سطحی ڈھانچے کو دیکھ کر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: