ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

پیاز کی قیمت سے پریشان آندھرا پردیش کے عوام کو راحت، 25روپئے فی کلو کے حساب سے فروخت

عام بازاروں میں پیاز ریاست میں فی کلو 70روپئے تا 90روپئے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جارہی ہے۔عوام کو سہولت پہنچانے اور سبسیڈی پر عوام کو پیاز کی فروخت کے لئے وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ہدایت پر ایسے فروخت کے مراکز کا افتتاح کیاگیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 24, 2019 01:49 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پیاز کی قیمت سے پریشان آندھرا پردیش کے عوام کو راحت، 25روپئے فی کلو کے حساب سے فروخت
عام بازاروں میں پیاز ریاست میں فی کلو 70روپئے تا 90روپئے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جارہی ہے۔عوام کو سہولت پہنچانے اور سبسیڈی پر عوام کو پیاز کی فروخت کے لئے وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ہدایت پر ایسے فروخت کے مراکز کا افتتاح کیاگیا ہے۔

حیدرآباد: آندھراپردیش کے 85رعیتو بازاروں میں سبسیڈی پر پیاز عوام کو دی جارہی ہے۔25روپئے فی کیلو کے حساب سے ایک کلو پیاز فروخت کی جارہی ہے تاہم عوام نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک کیلو پیاز ناکافی ہے۔ ہر گھر کے لئے کم از کم دو کیلو پیاز فراہم کی جانی چاہئے۔ مارکٹنگ کے وزیر موپی دیوی وینکٹ رمنانے اس فروخت کے مرکز کا ضلع گنٹور میں افتتاح کیا۔عام بازاروں میں پیاز ریاست میں فی کلو 70روپئے تا 90روپئے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جارہی ہے۔عوام کو سہولت پہنچانے اور سبسیڈی پر عوام کو پیاز کی فروخت کے لئے وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ہدایت پر ایسے فروخت کے مراکز کا افتتاح کیاگیا ہے۔ روزانہ 1500کوئنٹل پیازلاکر فروخت کی جارہی ہے۔ریاست کے تمام ٹاونس اور شہروں میں واقع رعیتو بازاروں میں پیاز فروخت کیلئے لائی گئی ہے جہاں سبسیڈی پر یہ پیاز فروخت کی جارہی ہے۔کمشنر مارکٹنگ پرڈیومنا نے کہاکہ پیاز کے کوٹہ میں مزید اضافہ کیاجائے گا۔دوسری طرف پیاز کی قیمتوں سے فکر مند عوام کا کہنا ہے کہ پیاز ہر گھر کے باورچی خانہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے دام بڑھنے سے گھر چلانے کا بجٹ بڑھ گیا ہے۔ مقامی بازاروں میں پیاز کی کمی اور طلب میں اضافہ، موسمی صورتحال سے یہاں کے بازاربے اعتدالی کے شکار ہورہے ہیں۔پیاز کے بغیر سالن کا تصور بھی محال ہے اور سالن کے بغیر پکوان مکمل نہیں ہے۔پیاز کاٹنے سے آنکھ سے آنسو نکلتے ہیں لیکن عوام کا کہنا ہے کہ اب پیاز کے دام سن کر ہی آنکھ سے آنسو نکل رہے ہیں۔بازاروں میں پیاز کی قیمتیں گزشتہ ڈھائی برس میں سب سے زیادہ ہوگئی ہیں۔اچھے معیار کی پیازکی قیمت 80تا90روپئے تک پہنچ گئی ہے۔ ایک طرف موسم کی صورتحال تو دوسری طرف پیداوار میں کمی کے ساتھ ساتھ طلب میں اضافہ ہواہے۔اس کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ماہ میں نئی فصل کی بازاروں میں آمد تک اس کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہے گا۔قیمتوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے عوام اپنی جیب کی گنجائش و ضروریات کی حد تک ہی خریداری کر رہے ہیں۔ کرنول کی ای مارکٹ سکریٹری نے کہا کہ معیار کے لحاظ سے پیاز کی قیمت درج کی گئی ہے۔پیاز کی قیمت میں اضافہ نے جہاں عام آدمی کے لئے مشکل کھڑی کردی ہے وہیں پیاز کے بڑے خریدار بھی پران بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔پیاز فروخت کرنے والوں نے کہا کہ کرنول میں بارش سے پیاز کے خراب ہوئی ہے اور سائز میں بھی کمی ہوئی ہے جبکہ مہاراشٹر کی پیاز معیاری اور بہترین ہے۔ تلنگانہ کے عہدیداروں نے کہا کہ پیاز کی نئی فصل آنے تک قیمتیں ایسی ہی برقرار رہے گی۔ عوام نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ پیاز کی قیمتوں میں اضافہ سے انہیں مشکل کا سامنا ہے۔ قیمتوں میں حددرجہ اضافہ کی وجہ سے جہاں ایک طرف تمام پریشان ہیں وہیں خاص طور پر متوسط اورغریب طبقہ پیاز خریدنے کیلئے سونچنے پر مجبورہوچکا ہے۔ اس دوارن کئی ہوٹلوں میں بھی سلاد میں پیازکے متبادل کا استعمال کیاجارہا ہے۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ طلب میں اضافہ اور پیازکی درآمد میں کمی کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کے تاجرین کی جانب سے پیاز کی خریداری کیلئے کی جارہی مسابقت کو دیکھتے ہوئے اس کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ان حالات میں طلب کے مطابق پیازکی درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اس کی اثر اے پی میں بھی دیکھا جارہا ہے۔پیاز کے تاجرین کے مطابق قیمتوں میں اضافہ یاکمی ان کے ہاتھ نہیں ہے۔قیمتوں کاتعین پیازکے مطالبہ اور اس کی درآمد پر منحصر ہوتا ہے۔ پیازکے ہول سیل تاجرین کا کہنا ہے کہ جب تک پیاز کی درآمد میں اضافہ نہیں ہوتا اس کی قیمتوں میں کمی سے متعلق کچھ کہانہیں جاسکتا ہے۔پیاز کی درآمدمیں جب اضافہ ہوتا ہے تو اس کی قیمت میں خود بخود کمی آجاتی ہے اورجب درآمدمیں کمی ہوتی ہے تو قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔پیازکی قیمت میں اس حدتک اضافہ ہوچکا ہے کہ لوگ ضرورت کے مطابق پیازخریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ غریب افراد جو پیاز کی قیمتوں کی وجہہ سے پریشان ہیں نے بتایا کہ انھوں نے اس کا استعمال کم کردیا ہے لیکن استعمال تو ضروری ہے۔گذشتہ سال بھی پیاز کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ نے شہریوں کو پریشان کن صورتحال سے دوچارکردیا تھا۔اب بھی وہی صورتحال دیکھی جارہی ہے۔پیاز کی قیمتوں میں جب بھی بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے تو اس کے بعدکسان اپنی تمام تر توجہ اسی پرمرکوز کرتے ہیں جس کی وجہ سے پیازکی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اورنتیجہ میں اس کی قیمت انتہائی کم ہوجاتی ہے۔

First published: Nov 24, 2019 01:45 PM IST