உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گراونڈ فلور پر سیٹ نہ ملنے سے حاملہ طالبہ نہیں دے پائی امتحان

    علامتی تصویر

    ایم اے فرسٹ ائیر کی ایک حاملہ طالبہ نے حیدرآباد میں کالج انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ امتحان کے وقت اسے گراونڈ فلور پر سیٹ نہیں دئے جانے کی وجہ سے وہ اپنا امتحان نہیں دے پائی۔

    • Share this:
      ایم اے فرسٹ ائیر کی ایک حاملہ طالبہ نے حیدرآباد میں کالج انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ امتحان کے وقت اسے گراونڈ فلور پر سیٹ نہیں دئے جانے کی وجہ سے وہ اپنا امتحان نہیں دے پائی۔ طالبہ نے بتایا کہ حاملہ ہونے کے سبب اسے سیڑھیاں چڑھنے میں پریشانی ہوتی ہے اس لئے وہ چوتھے منزل کی جگہ پر نہیں جا سکتی تھی اور اس نے کالج انتظامیہ سے متبادل انتظام کرنے کے لئے کہا۔

      اسکالرس ڈگری کالج فار وومین کے پرنسیپل تروپتی ریڈی نے اس الزام کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ کالج عام طور پر اس قسم کے اصرار کو مانتا ہے لیکن جمعرات کے روز ہوا یہ واقعہ ان کی جانکاری میں پیش نہیں آیا۔

      طالبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کالج کے ایک ملازم سے متبادل انتظام کرنے کے لئے کہا تھا لیکن انہوں نے نہیں سنا۔ طالبہ نے مزید بتایا کہ وہ وقت پر کالج پہنچی تھی لیکن کالج کے ملازمین نے ان کے اصرار کو ماننے سے منع کر دیا۔ طالبہ نے کہا’’ میں نے کالج کے ایک ملازم سے اپنی سیٹ بدلنے کے بارے میں بات کی تھی کیوں کہ میں سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی۔ لیکن میری درخواست پر غور نہیں کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد میں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا‘‘۔ طالبہ نے اسسٹنٹ کمشنر پولیس پوریدھور راو کو اس معاملہ میں مداخلت کرنے سے متعلق پیغام بھیجا تھا۔

      پولیس افسر نے بتایا ’’ طالبہ نے مجھ سےاصرار کیا تھا کہ گروانڈ فلور پر بیٹھ کر امتحان دینے کے متعلق میں کالج سے بات کروں‘‘۔پرنسیپل نے پولیس افسرکو مبینہ طور پر بتایا کہ سیٹ مختص کرنے کے معاملہ میں ان کے پاس کوئی خاص ہدایت نہیں ہے۔ پرنسیپل نے کہا ’’ تاہم ، ہم اس طرح کے اصرار پر غور کرتے ہیں اور خاص مدد پہنچاتے ہیں۔ ہمارے یہاں چار اور حاملہ طالبات نے میرے کمرے میں بیٹھ کر امتحان دئے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ میری معرفت میں نہیں آیا‘‘۔رابطہ کرنے پر تھانہ انچارج آر دیویندر نے بتایا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ طالبہ وقت پر کالج نہیں پہنچی تھی اسلئے اسے امتحان نہیں دینے دیا گیا۔ تاہم حاملہ طالبہ نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔
      First published: