ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تلنگانہ : آم کا اچار  ثابت ہوا گاؤں والوں کے لیے مصیبت: جانئے کیوں؟

کلوور میں اچار کی تقسیم کے واقعہ کے بعد شاد نگر میں کورونا کے 19 کیسیز کا پتہ چلایا گیا۔ پورے گاؤں میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب یہ خبر عام ہوئی کہ اچار کے تاجر اور ان کے ساتھ گاؤں آنے والے ایک باورچی بھی شاد نگر کے کورونا متاثرین میں شامل ہیں۔

  • Share this:
تلنگانہ : آم کا اچار  ثابت ہوا گاؤں والوں کے لیے مصیبت: جانئے کیوں؟
کلوور میں اچار کی تقسیم کے واقعہ کے بعد شاد نگر میں کورونا کے 19 کیسیز کا پتہ چلایا گیا۔ پورے گاؤں میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب یہ خبر عام ہوئی کہ اچار کے تاجر اور ان کے ساتھ گاؤں آنے والے ایک باورچی بھی شاد نگر کے کورونا متاثرین میں شامل ہیں۔

تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر کے نواب پیٹ منڈل کے کلوور ویلیج کے سرپنچ نے اپنے گاوں کے تمام گھروں میں  آم کا اچار بطور تحفہ دینے کا ارادہ کیا ۔ اس کے لیے انہوں نے دس دن پہلے قریبی شہر شاد نگر کے ایک تاجر کو دو کنٹل آم کے اچار کا آرڈر دیا ۔ طئے یہ ہوا کہ تاجر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ خود گاؤں میں رہ کر اچار تیار کرے گا ۔  اس کے دوسرے ہی دن  تاجر نے بارہ لوگوں کے ساتھ کلوور آکر وہاں دو دن قیام کیا  اور وہیں پر اچار تیار کرنے کے بعد اسے مرتبانوں میں پیک کرکے سرپنچ کے حوالے کردیا۔


سرپنچ نے گاؤں والوں میں اچار کی تقسیم کے لیے ایک تقریب منعقد کی اور ہر گھر اچار کا ایک مرتبان گفٹ کیا۔ گاؤں والوں نے اس تحفہ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سرپنچ کا شکریہ ادا کیا ۔  چند گاؤں والوں نے تازہ اچار کو کھانے میں استعمال کرنا بھی شروع کردیا ۔ لیکن زیادہ تر گاؤں والوں نے روایت کے مطابق اسے بعد میں کھانے کے لیے اٹھا کر  رکھ دیا کیونکہ یہ بات مشہور ہے کہ اچار کا اصل مزہ اس کے بننے کے فوری بعد نہیں بلکہ دھیرے دھیرے چند دنوں بعد آتا ہے۔

کلوور میں اچار کی تقسیم کے واقعہ کے بعد شاد نگر میں کورونا کے 19 کیسیز کا پتہ چلایا گیا۔ پورے گاؤں میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب یہ خبر عام ہوئی کہ اچار کے تاجر اور ان کے ساتھ گاؤں آنے والے ایک باورچی بھی شاد نگر کے کورونا متاثرین میں شامل ہیں ۔ اچار کے تاجر نے کلوور میں اچار بنانے سے پہلے اس باورچی کے ساتھ حیدرآباد کے علاقہ ضیاء گوڈہ کا سفر کیا تھا  شبہ ہے کہ وہیں وہ دونوں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔


اس خبر کے عام ہوتے ہی گاؤں والے خوف زدہ ہوگئے خاص طور پر آم کا تازہ اچار کھانے بہت زیادہ ڈرے ہوئے تھے۔  کئی دیہاتیوں نے اچار سے بھرے شیشے کے مرتبان پھینک دیے۔   محکمہ صحت نے گاؤں کا سروے کرتے ہوئے گاؤں والوں کی طبی جانچ کا انتظام کیا ۔ لیکن وہاں کوئی بھی  کورونا  پوزیٹو نہیں پایا گیا۔  گاؤں میں دہشت کا ماحول دیکھ کر  ضلع میڈیکل اور ہیلت کا عملہ انہیں یہ سمجھانے میں لگا ہے کہ اس طرح بنائے گئے کھانے پینے کی اشیاء سے کورونا پھیلنے کے امکانات نہیں ہیں ۔
First published: Jun 05, 2020 09:48 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading