உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدرآباد کا نیا نام؟ PM Modi نے تلنگانہ کے دارالحکومت کو ’بھاگیہ نگر‘ کیوں کہا؟

    PM Modi in Hyderabad: بی جے پی پر بڑھا تلنگانہ کے لوگوں کا یقین، ریاست کی ترقی کیلئے پرعزم: وزیر اعظم مودی

    PM Modi in Hyderabad: بی جے پی پر بڑھا تلنگانہ کے لوگوں کا یقین، ریاست کی ترقی کیلئے پرعزم: وزیر اعظم مودی

    اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ تلنگانہ بی جے پی کی اولین ترجیح ہے اور ریاست میں اگلے سال انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ بی جے پی کے لیے تلنگانہ کی اہمیت پی ایم مودی کی تقریر میں بھی ظاہر ہوئی جہاں انہوں نے کہا کہ ریاست کی ہمہ جہت ترقی پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    • Share this:
      کیا اب حیدرآباد کا نام بدل جائے گا؟ کیا حیدرآباد کو نیا دیا جائے گا؟ اتوار کے روز اس قیاس آرائی کے ساتھ سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی جب وزیر اعظم نریندر مودی (PM Modi) نے حیدرآباد میں بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران تلنگانہ کے دارالحکومت کو بھاگیہ نگر کہا، جو شہر کے ہندو ثقافتی ورثے میں جڑوں والا نام کا اظہار ہے۔

      وزیر اعظم نے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل (Sardar Vallabhbhai Patel) نے حیدرآباد میں ایک بھارت (متحدہ ہندوستان) کی بنیاد اس خطے کو یونین میں ضم کر کے رکھی اور 'شریشٹھ بھارت' کی تعمیر بی جے پی کی تاریخی ذمہ داری ہے۔

      پی ایم مودی نے کہا کہ حیدرآباد بھاگیہ نگر ہے جو ہم سب کے لیے اہم ہے۔ سردار پٹیل نے حیدرآباد میں متحد ہندوستان کی بنیاد رکھی اور اب اسے آگے لے جانے کی بی جے پی کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں جو کچھ اچھا ہے وہ ہر ہندوستانی کا ہے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ بی جے پی اس فلسفے پر یقین رکھتی ہے اور اسی وجہ سے وہ پٹیل جیسے لیڈروں کو مناتی ہے۔

      حیدرآباد کا نام تبدیل کرنا بی جے پی کا طویل عرصے سے مطالبہ رہا ہے، پارٹی قائدین بار بار اس کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ نام کی تبدیلی کے چرچے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ وزیر اعلیٰ اپنے کابینی وزیر کی مشاورت سے کریں گے جب بی جے پی ریاست میں اقتدار میں آئے گی۔ یہاں فی الحال تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے کے چندر شیکر راؤ کی حکومت ہے۔ پیوش گوئل نے بی جے پی کی ایگزیکٹو میٹنگ میں بھی شرکت کی۔

      ابھی دو دن پہلے بی جے پی لیڈر اور جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ رگھوبر داس نے کہا تھا کہ اگر پارٹی ریاست میں اقتدار میں آئی تو حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر رکھا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھئے: بی جے پی پر بڑھا تلنگانہ کے لوگوں کا یقین، ریاست کی ترقی کیلئے پرعزم: PM مودی

      اس سال اپنی ایگزیکٹو میٹنگ کے لیے حیدرآباد کو مقام کے طور پر منتخب کرنے کا بی جے پی کا فیصلہ بھی ایسا سمجھا جاتا ہے کہ وہ حکمت عملی کے تحت ان ریاستوں میں پارٹی کی بنیاد کو مضبوط کرنے کی کوشش میں جہاں وہ اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔

      یہ بھ پڑھیں: 'اقلیتوں میں کمزور اور محروم طبقات کے درمیان بھی جایئیں': PM مودی نے بی جے پی کارکنان سے کہا

      اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ تلنگانہ بی جے پی کی اولین ترجیح ہے اور ریاست میں اگلے سال انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ بی جے پی کے لیے تلنگانہ کی اہمیت پی ایم مودی کی تقریر میں بھی ظاہر ہوئی جہاں انہوں نے کہا کہ ریاست کی ہمہ جہت ترقی پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: