ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

آئی ایم اے گھوٹالہ : سی بی آئی کی بڑی کارروائی ، کرناٹک کے سابق وزیر آر روشن بیگ کو کیا گرفتار

سی بی آئی نے روشن بیگ کو آج صبح پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا تھا ، اس کے بعد شام 4 بجے انہیں گرفتار کرتے ہوئے IMA پونجی اسکیم کی تفتیش میں ایک اہم کارروائی انجام دی ہے ۔

  • Share this:
آئی ایم اے گھوٹالہ : سی بی آئی کی بڑی کارروائی ، کرناٹک کے سابق وزیر آر روشن بیگ کو کیا گرفتار
آئی ایم اے گھوٹالہ : سی بی آئی کی بڑی کارروائی ، کرناٹک کے سابق وزیر آر روشن بیگ گرفتار

بنگلورو: کرناٹک کے سابق وزیر آر روشن بیگ کو آج سی بی آئی نے آئی ایم اے گھوٹالہ کے سلسلے میں گرفتار کرلیا ہے ۔ سی بی آئی نے روشن بیگ کو آج صبح پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا تھا ، اس کے بعد شام 4 بجے انہیں گرفتار کرتے ہوئے IMA پونجی اسکیم  کی تفتیش میں  ایک اہم کارروائی انجام دی ہے ۔ گرفتاری کے بعد روشن بیگ کو بنگلورو کے کورمنگلا میں  موجود جج کی رہائش گاہ پر پیش کیا گیا ۔ مقامی عدالت نے انہیں عدالتی تحویل میں بھیجنے کے احکامات جاری کئے ، جس کے بعد روشن بیگ کو بنگلورو کی مرکزی جیل پرپن اگرہار لایا گیا ۔ اس وقت سابق وزیر آر روشن بیگ کو جیل میں ہی کوارنٹائن کرتے ہوئے انہیں علاحدہ کمرے میں رکھا گیا ہے ۔ جیل کے انتظامی امور کی عمارت کے ایک کمرے میں آر روشن بیگ کو رکھا گیا ہے ۔ کووڈ ٹسٹ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں جیل کے اندرونی حصے میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔


دوسری جانب سی بی آئی نے کہا ہے کہ ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر انہوں نے روشن بیگ کو گرفتار کیا ہے۔ آئی ایم اے  (آئی منیٹری ایڈوائزری) کمپنی کا پونجی اسکیم جون 2019 میں منظر عام پر آیا تھا ۔ حلال سرمایہ کاری کے نام پر ہوئی اس کمپنی کی دھوکہ دہی سے ہزاروں خاندان اپنی محنت مزدوری کا پیسہ گنوا بیٹھے ہیں ۔ متاثرین میں زیادہ تر متوسط طبقے کے مسلم خاندان شامل ہیں ، جو ان دنوں بے حد پریشان ہیں۔


ایک چھوٹے سے تاجر محمد منصور خان کی قائم کردہ  آئی ایم اے کمپنی نے سونے کی تجارت ، دوائیوں ، رئیل اسٹیٹ اور چند دیگر شعبہ میں قدم رکھتے ہوئے حلال سرمایہ کاری کے نام پر عوام سے کروڑوں روپے حاصل کئے تھے ۔ چند سالوں تک سرمایہ کاروں کو منافع یا ریٹرن کی شکل میں ماہانہ رقم لوٹاتے ہوئے یہ کمپنی بڑے پیمانے پر اپنی سرگرمیاں انجام دیتی رہی ۔ وقتا فوقتا کمپنی کے لین دین پر سوالات اٹھتے رہے ۔ لیکن رشوت خوری ، سیاست دانوں کی پشت پناہی ، چند سرکاری اعلی حکام کی مدد  سے کمپنی نے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا ۔ کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے بعد پونجی اسکیم میں سرمایہ لگانے والے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔  اس طرح چند اعلی افسروں ، سیاستدانوں کی ملی بھگت سے پونجی اسکیم کا ایک بڑا گھوٹالہ رونما ہوا ، جس کا اثر نہ صرف کرناٹک بلکہ ملک کی کئی ریاستوں میں دیکھنے کو ملا۔


ریاستی حکومت نے پہلے اس معاملہ کی ایس آئی ٹی کے ذریعہ جانچ کروائی ۔ اس کے بعد ای ڈی اور  سی بی آئی سے تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا جو جاری ہے ۔  اس پورے گھوٹالہ کے کلیدی ملزم محمد منصور خان نے اپنے بیان میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ سابق ریاستی وزیر آر روشن بیگ نے 400 کروڑ روپے آئی ایم اے کمپنی سے حاصل کئے تھے اور انہوں نے اس رقم کو نہیں لوٹایا ۔ آئی ایم اے گھوٹالہ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے روشن بیگ جو سات مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے ، ہمیشہ سوالات کے گھیرے میں رہے ۔ی ہ بات کہی جاتی رہی کہ انہوں نے آئی ایم اے گھوٹالہ سے بچنے کیلئے کانگریس پارٹی ترک کرتے ہوئے بحیثیت رکن اسمبلی بی جے پی حکومت کی تائید کی ۔ تاہم اس کے بعد ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی نے انہیں نہ تو ٹکٹ دیا اور نہ ہی پارٹی میں شامل کیا ۔ اب سی بی آئی کے ذریعہ اچانک ہوئی گرفتاری کے بعد شیواجی نگر کے سابق ایم ایل اے روشن بیگ کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے ۔

گرفتاری کے بعد روشن بیگ کے وکیل حنیف نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں روشن بیگ سے کئی مرتبہ پوچھ تاچھ کی گئی ۔ لیکن اچانک اس طرح کی کارروائی کی توقع نہیں تھی ۔ ایڈوکیٹ حنیف نے کہا کہ اس معاملے میں ضمانت کیلئے عرضداشت داخل کی جائے گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 22, 2020 11:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading