ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

آئی ایم اے گھوٹالہ : سرمایہ کاروں کو مل سکتی ہے 30 فیصدتک کی رقم ، عدالت کرے گی حتمی فیصلہ

حلال سرمایہ کاری کے نام پر ہوئے آئی ایم اے گھوٹالہ سے متاثر ہوئے ہزاروں خاندانوں کو تھوڑی بہت راحت ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے ۔ اس گھوٹالے سے متاثر ہوئے ڈیپازیٹروں کی مدد کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے بنائی گئی کامپٹنٹ اتھارٹی نے کلیم فارمز بھرتی کرنے کی تاریخ کا اعلان کیا ہے ۔

  • Share this:
آئی ایم اے گھوٹالہ : سرمایہ کاروں کو مل سکتی ہے 30 فیصدتک کی رقم ، عدالت کرے گی حتمی فیصلہ
آئی ایم اے گھوٹالہ : سرمایہ کاروں کو مل سکتی ہے 30 فیصدتک کی رقم ، عدالت کرے گی حتمی فیصلہ

بنگلورو : آئی ایم اے پونجی اسکیم سے متاثرہ افراد کیلئے طویل انتظار کے بعد  Claim Forms بھرتی کرنے کا مرحلہ شروع ہورہا ہے ۔ حلال سرمایہ کاری کے نام پر ہوئے آئی ایم اے  گھوٹالہ سے متاثر ہوئے ہزاروں خاندانوں کو تھوڑی بہت راحت ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے ۔ اس گھوٹالے سے متاثر ہوئے ڈیپازیٹروں کی مدد کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے بنائی گئی کامپٹنٹ اتھارٹی نے کلیم فارمز بھرتی کرنے کی  تاریخ کا اعلان کیا ہے ۔ بنگلورو میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کامپٹنٹ اتھارٹی کے خصوصی افسر ہرش گپتا نے کہا کہ 25 نومبر سے 24 دسمبر 2020 اس ایک ماہ کے اندر آئی ایم اے کے ڈیپازیٹرس اپنی رقم حاصل کرنے کیلئے آن لائن Claim Form بھرتی کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں کامپٹنٹ اتھارٹی کے ویب سائٹ پر IMA Claim Form ترتیب دیا گیا ہے ، جو 25 نومبر سے آن لائن دستیاب رہے گا۔


کامپٹنٹ اتھارٹی کے خصوصی افسر ہرش گپتا نے کہا کہ آئی ایم اے کے ڈیپازیٹرس کی رقم  تقریبا 2900 کروڑ روپے ہے ، جس میں انہیں ریٹرنس کے طور پر تقریبا 1500 کروڑ روپے پہلے ہی مل چکے ہیں۔ اب تقریبا 1400 کروڑ روپے ادا کرنے باقی ہیں۔ ڈیپازیٹرس کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے ۔ ہرش گپتا نے کہا کہ یہ جانکاری آئی ایم اے کمپنی کے پاس موجود اعداد و شمار سے حاصل کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم اے گھوٹالہ کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے جو جائیدادیں (منقولہ اور غیر منقولہ) ضبط کی گئی ہیں ، ان  کی مارکیٹ ویلیو تقریبا  475 کروڑ روپے ہوسکتی ہے ۔ اس لحاظ سے آئی ایم اے کے سرمایہ کاروں کو ان کے دعوی کی رقم کا  تقریبا 30 فیصد حصہ مل سکتا ہے ۔ تاہم سینئر آئی اے ایس افسر ہرش گپتا نے کہا کہ جائیدادوں کی نیلامی کے بعد حاصل ہونے والی کل رقم کو کس طرح تقسیم کیا جائے، کیا چھوٹے اور غریب ڈیپازیٹروں کو ترجیحی بنیاد پر رقم لوٹانا ہوگا ، دیگر متاثرہ ڈیپازیٹرس کو ان کی دعوی کی رقم کا کتنا حصہ لوٹایا جائے یہ تمام باتیں عدالت میں طے ہوں گی۔


ہرش گپتا نے کہا کہ Claim forms جمع کرنے کے بعد ڈیپازیٹرس یہ نہ سمجھیں کہ انہیں فوری طور پر رقم مل جائے گی۔ اس معاملے میں ضبط کی گئی جائیدادوں کی قانون کے مطابق نیلامی عمل میں آئے گی ۔ ان جائیدادوں کے خریداروں سے حاصل ہونے والی رقم کے بعد عدالت کے احکامات کے مطابق تقسیم کا عمل شروع ہوگا ۔ اس گھوٹالہ سے جڑے معاملات کو جلد سے جلد رفع دفع کرنے کیلئے سٹی سول کورٹ میں آئی ایم اے خصوصی کورٹ بنایا گیا ہے ۔ کورونا کی وجہ سے اب تک تاخیر ہوئی ہے۔ لیکن امید ہے کہ آنے والے دنوں میں عدالت زیر التوا معاملات کو حل کرتے ہوئے ڈیپازیٹرس کی رقم کو لوٹانے کیلئے راہ ہموار کرے گی ۔ ہرش گپتا نےکہا کہ آئی ایم اے کے تمام ڈیپازیٹرس بنگلورو ون ، کرناٹک ون ، اٹل جی جن سنہیی کیندرا پہنچ کر آپریٹر کی مدد سے آن لائن کلیم فارمز بھرتی کر سکتے ہیں یا پھر انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنے طور پر بھی درخواست فارم بھر سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ضروری دستاویزات کی صرف سافٹ کاپیاں فراہم کرنی ہوں گی ۔ آن لائن ایپلیکیشن داخل کرنے کے دو مرحلے بنائے گئے ہیں ۔ درخواست فارم کے پہلے حصہ  میں ذاتی معلومات جیسے نام، پتہ، موبائل نمبر، بینک اکاؤنٹ نمبر اور دیگر معلومات فراہم کرنی ہوں گی ۔ درخواست فارم کے دوسرے حصہ میں ڈیپازٹ کی گئی رقم، لین دین کی تفصیلات فراہم کرنی ہوگی ۔


واضح رہے کہ حلال سرمایہ کاری کے نام پر ہزاروں سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے والی آئی ایم اے کمپنی کا گھوٹالہ جون 2019 میں منظر عام پر آیا تھا ۔ کئی اہم سیاسی لیڈروں اور اعلی افسروں کی ملی بھگت اس بڑے گھوٹالہ کی ایک اہم  وجہ بنی ہوئی ہے ۔ اس معاملے میں کئی افراد کے خلاف مقدمات بھی چل رہے ہیں ۔ سی بی آئی ، ای ڈی اور ریاستی جانچ ایجنسیوں نے اس معاملہ کی تحقیقات کی ہیں اور اب بھی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس گھوٹالہ سے نہ صرف کرناٹک بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کے کئی ہزار افراد کو نقصان ہوا ہے ۔ کروڑوں روپے کے اس اسکیم سے بری طرح متاثر ہونے والے افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں ۔ اپنی محنت و مزدوری کی جمع پونجی کے نہ ملنے پر ان دنوں  پریشانی کے عالم میں زندگی گزر بسر کررہے ہیں ۔

آئی ایم اے اسکیم کی کامپٹنٹ اتھارٹی نے واضح کیا کہ 24 دسمبر 2020 کے بعد دعوی کی رقم کی کوئی عرضی قبول نہیں کی جائے گی ۔ ایک ماہ کے اندر ہی claim فارمس جمع کرنے ہونگے۔ کلیم فارمز جمع کرنے کے سلسلے میں متاثرین کی مدد اور رہنمائی کیلئے کامپٹنٹ اتھارٹی نے ہیلپ لائن شروع کی ہے۔   ہلپ لائن نمبر: 08046885959 صبح 8 بجے سے شام 8 بجے تک یہ ہیلپ لائن کھلی رہے گی۔

ویب سائٹ: آن لائن درخواست جمع کرنے کیلئے بنایا گیا ویب سائٹ کچھ یوں ہے imaclaims.karnataka.gov.in

ای میل: اس سلسلے میں ای میل کے ذریعہ بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے جو یوں ہے  splocaima20@gmail.com

وہاٹس ایپ نمبر : عوام کی رہنمائی کیلئے واٹس ایپ نمبر بھی فراہم کیا گیا ہے 797556888025
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 14, 2020 05:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading