ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

حیدرآباد اجتماعی عصمت دری۔قتل: ملزموں نے حیوانیت کی ساری حدیں کی تھیں پار، فارینسک رپورٹ میں ہوا یہ بڑا انکشاف

حیدرآباد میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹرکی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملے میں ہردن نئے انکشاف ہورہے ہیں۔ خاتون ڈاکٹر کی ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد فارینسک جانچ میں بھی نئے انکشاف ہوئے ہیں۔ اب اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ڈاکٹر کو مارنے سے پہلے یہ حیوانیت کی گئی تھی۔

  • Share this:
حیدرآباد اجتماعی عصمت دری۔قتل: ملزموں نے حیوانیت کی ساری حدیں کی تھیں پار، فارینسک رپورٹ میں ہوا یہ بڑا انکشاف
حیدرآباد میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹرکی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملے میں ہردن نئے انکشاف ہورہے ہیں۔ خاتون ڈاکٹر کی ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد فارینسک جانچ میں بھی نئے انکشاف ہوئے ہیں۔ اب اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ڈاکٹر کو مارنے سے پہلے یہ حیوانیت کی گئی تھی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹرکی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملے میں ہردن نئے انکشاف ہورہے ہیں۔ خاتون ڈاکٹر کی ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد فارینسک جانچ میں بھی نئے انکشاف ہوئے ہیں۔ اب اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ڈاکٹر کو مارنے سے پہلے ملزموں نے زبردستی شراب بھی پلائی تھی۔

فارینسک رپورٹ میں ہوا انکشاف

انگریزی اخبار دا ٹائمس آف انڈیا کے مطابق پوسٹ مارٹم فارینسک ٹکسیکولاجی میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ خاتون ڈاکٹر کی لیور ٹیشوز میں شراب کے مواد ملے ہیں۔ بتادیں کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے کہا تھا کہ ملزموں نے ڈاکٹر کا ریپ اور قتل کرنے سے پہلے زبردستی شراب بھی پلائی تھی۔ اب پولیس کے ان دعوؤں کی تصدیق ہوگئی ہے۔

ڈی این اے رپورٹ میں کیا ملا؟

بتادیں کہ خاتون ڈاکٹر کی ہڈیوں کو ڈی این اے جانچ کیلئے بھیجا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ ڈی این اے ڈاکٹر کے گھر والوں سے میچ کرگیا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ کے کپڑوں سے سیمینل سیمپل لئے گئے تھے۔ ڈی این اے جانچ سے اس بات کی بھی تصدیق ہوگئی ہے کہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا اس جگہ پر پائے گئے سیمینل کے داغ چار ملزموں کے ہی تھے۔


لاش کو محفوظ رکھنے کا حکم
سپریم کورٹ مے کہا ہے کہ انکاؤنٹر میں مارے گئے ملزموں کی لاش کو محفوظ رکھنے کے ہائی کورٹ کا حکم فی الحال برقرار رہے گا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے 9 دسمبت کو افسران کو 13 دسمبر تک چاروں لاشوں کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ کمیشن کی جانچ کے دوران کوئی دیگر عدالت جانچ نہیں کرے گی۔ اس معاملے کی جانچ کیلئے عدالت عظمیٰ نے تین رکنی کمیشن کی تشکیل کی ہے ، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج وی ایس سرپورکر کررہے ہیں ۔
First published: Dec 14, 2019 10:48 AM IST