ہوم » نیوز » وطن نامہ

India-China Standoff: ہندوستان نے چین سے پھر دو ٹوک کہا: پوری طرح سے پیچھے ہٹنا ہی پڑے گا

11 گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی میٹنگ میں ہندوستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کردیا کہ چین کو پوری طرح سے پیچھے ہٹنا ہی پڑے گا اور یہاں پر کشیدگی کم کرنے کی پوری ذمہ اری چین پر ہی ہے ۔

  • Share this:
India-China Standoff: ہندوستان نے چین سے پھر دو ٹوک کہا: پوری طرح سے پیچھے ہٹنا ہی پڑے گا
India-China Standoff: ہندوستان نے چین سے پھر دو ٹوک کہا: پوری طرح سے پیچھے ہٹنا ہی پڑے گا ۔ تصویر : پی ٹی آئی ۔

ہندوستان اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں سرحد کولے کر اختلافات جار ہیں ۔اس درمیان تقریبا ڈھائی مہینے کے بعد دونوں افواج کے درمیان اتوار کو نویں دور کی بات چیت ہوئی ۔ 11 گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی میٹنگ میں ہندوستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کردیا کہ چین کو پوری طرح سے پیچھے ہٹنا ہی پڑے گا اور یہاں پر کشیدگی کم کرنے کی پوری ذمہ اری چین پر ہی ہے ۔


کور کمانڈر سطح کی اس میٹنگ کا اصل مقصد مشرقی لداخ میں ٹکراو والے سبھی مقامات سے فوجیوں کو ہٹانے کے عمل پر آگے بڑھنا تھا ۔ بتادیں کہ اختلافات کے حل کیلئے دونوں ممالک کے درمیان کئی دور کی میٹنگ میں کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکل سکا ہے ۔


جانکاری کے مطابق یہ میٹنگ مشرقی لداخ میں چین کی جانب مولڈو سرحدی علاقہ میں اتوار کی صبح 10 بجے شروع ہوئی ، جس میں ہندوستان کی قیادت 14 ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پی جی کے مینن کی نے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان نے ایک مرتبہ پھر زور دے کر کہا کہ ایل اے سی پر ٹکراو کے سبھی پوائنٹس سے فوجیوں کو ہٹانے کا عمل دونوں طرف سے ایک ساتھ شروع ہونا چاہئے ۔ کوئی بھی یکطرفہ نظریہ اس کو قبول نہیں ہے ۔ میٹنگ میں ہندوستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایل اے سی پر اپریل 2020 سے پہلے کی حالت بحال کی جائے ۔


چھ نومبر کو ہوئی تھی آٹھویں دور کی گفتگو

اس سے پہلے چھ نومبر کو ہوئی آٹھویں دور کی بات چیت میں دونوں فریق نے ٹکراو والے خاص علاقوں سے فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پر جامع گفتگو کی تھی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 25, 2021 08:25 AM IST