உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Army Combat New Uniform:’انڈین آرمی کی کامبیٹ یونیفارم LTTE کی طرح نہیں، فلٹر لگاکر خراب کرنے کی کوشش‘-ذرائع

     ڈریس میں پہنے جانے والے کمربند سے اس کا پتہ چل جاتا ہے کہ کون عہدیدار انفینٹری کے ہیں، کون آرٹیلری کے، کون ایئر ڈیفنس کے یا کسی اور آرمس کے۔

    ڈریس میں پہنے جانے والے کمربند سے اس کا پتہ چل جاتا ہے کہ کون عہدیدار انفینٹری کے ہیں، کون آرٹیلری کے، کون ایئر ڈیفنس کے یا کسی اور آرمس کے۔

    یونیفارم میں جو کیموفلاز (ایسا کلر اور پیٹرن جس سے ایک دم نظر میں نہ آئیں اور چھپتے میں مدد ملے) ہے وہ زیادہ بہتر ہے۔ امریکہ سمیت کئی ملکوں کی آرمی ڈیجیٹل پیٹرن کا استعمال کرتی ہے۔ موجودہ یونیفارم میں شرٹ پینٹ کے اندر ڈالی جاتی ہے اور باہر سے بیلٹ لگائی جاتی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: Army Combat New Uniform: انڈین آرمی (Indian Army) کی کامبیٹ یونیفارم اب بدلنے والی ہے اور اس کا پہلا لُک آپ کو 15 جنوری کو آرمی ڈے پریڈ میں دکھائی دے گا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نئی آرمی کامبیٹ پیٹرن یونیفارم کو 15 پیٹرن، آٹھ ڈیزائن اور چار فیبرک کے آپشن کے ذریعے سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹکنالوجی کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ انڈین آرمی کی نئی کامبیٹ یونیفارم ایل ٹی ٹی ای کی طرح نہیں ہے۔ سوشل میڈیا (Social Media) پر غلط ارادے سے گمراہ کن جانکاری پھیلائی جارہی ہے، جس میں، فوج کے نئے پیٹرن کو خراب کرنے کے لئے فلٹر کا استعمال کیا گیا ہے۔ آرمی ڈے پریڈ (Army Day Parade) سےپہلے جمعرات کو پیراشوٹ ریجمنٹ نے مارچ کیا۔ آرمی ڈے پریڈ میں اس بار پہلی مرتبہ مارچنگ دستے انڈین آرمی کی الگ الگ وقت میں رہی یونیفارم اور ہتھیار کے حساب سے ہوں گے۔


      اسی طرح پہلی مرتبہ یوم جمہوریہ (Republic Day Parade) میں بھی آرمی کے جو دستے شامل ہوںگے، وہ الگ الگ دور کی یونیفارم کے مطابق ہوں گے۔ اب تک آرمی ڈے پریڈ اور یوم جمہوریہ پریڈ میں آرمی کے مارچنگ دستے الگ الگ ریجمنٹ کے مطابق تقسیم ہوتے رہتے تھے، لیکن پہی مرتبہ یہ الگ الگ دور کی یونیفارم کے مطابق ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق، ایک مارچنگ دستہ آزادی سے پہلے کی آرمی یونیفارم میں اور تب کے ہتھیاروں کے ساتھ ہوگا۔ اسی طرح ایک دستہ 1962 کے دوران کی یونیفارم، ایک دستہ 1971 کے بعد کی یونیفارم، ایک دستہ 90 کے دہائی کے شروعاتی دور کی یونیفارم، ایک دستہ آرمی کی موجودہ یونیفارم میں مارچ کرے گا۔ ایک دستہ آرمی کی نئی کامبیٹ یونیفارم میں ہوگا۔


      کیسی ہے انڈین آرمی کی کامبیٹ یونیفارم
      ذرائع کے مطابق یونیفارم میں جو کیموفلاز (ایسا کلر اور پیٹرن جس سے ایک دم نظر میں نہ آئیں اور چھپتے میں مدد ملے) ہے وہ زیادہ بہتر ہے۔ امریکہ سمیت کئی ملکوں کی آرمی ڈیجیٹل پیٹرن کا استعمال کرتی ہے۔ موجودہ یونیفارم میں شرٹ پینٹ کے اندر ڈالی جاتی ہے اور باہر سے بیلٹ لگائی جاتی ہے۔ نئی یونیفارم میں بیلٹ اندر ہوگی اور شرٹ باہر ہوگی۔ آرمی عہدیدار کے مطابق اس سے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔ کپڑے میں بھی کچھ تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔


      فوج کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ابھی ڈریس میں پہنے جانے والے کمربند سے اس کا پتہ چل جاتا ہے کہ کون عہدیدار انفینٹری کے ہیں، کون آرٹیلری کے، کون ایئر ڈیفنس کے یا کسی اور آرمس کے۔ اسی طرح عہدیدار کس ریجمنٹ کے ہیں یہ بھی میس ڈریس کے کمر بند میں لگے کریسٹ اور ٹوپی سے پتہ چل جاتا ہے۔ تبدیلی کے بعد کرنل رینک تک کے عہدیداروں کا تو ریجمنٹل کمربند ہوگا، لیکن بریگیڈیئر اور اس سے اوپر رینک کے عہدیداروں کا ایک جیسا ہی کالے رنگ کا کمر بند ہوسکتا ہے، جس میں انڈین آرمی کا کریسٹ لگا ہوسکتا ہے نہ کہ اُن کی اپنی ایجمنٹ کا۔ ٹوپی میں بھی اس طرح کی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: