உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو سونپا INS Vikrant، ہندستانی بحریہ کے نئے پرچم کی بھی کی نقاب کشائی

    Youtube Video

    INS Vikrant launching: کوچی شپ یارڈ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی کمیشننگ تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ طیارہ بردار جہاز بحریہ کے حوالے کیا۔ اس کے ساتھ اب بحریہ کا جھنڈا تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پی ایم مودی نے بحریہ کے نئے پرچم کی نقاب کشائی بھی کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Kerala, India
    • Share this:
      PM Modi launched INS Vikrant:  وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو پہلے دیسی طیارہ بردار بحری جہاز 'آئی این ایس وکرانت' کو بحریہ میں شامل کیا۔ جو کہ بھارت کی سمندری تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا جہاز ہے۔ کوچی شپ یارڈ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی کمیشننگ تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ طیارہ بردار جہاز بحریہ کے حوالے کیا۔ اس کے ساتھ اب بحریہ کا جھنڈا تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پی ایم مودی نے بحریہ کے نئے پرچم کی نقاب کشائی بھی کی۔  مودی یہاں کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ (سی ایس ایل) میں 20,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے بنائے گئے اس طیارہ بردار جہاز کو بھارتی بحریہ میں شامل کیا۔ دیسی طیارہ بردار بحری جہاز وکرانت کی شمولیت کے ساتھ بھارت ان ممالک کے منتخب گروپ میں شامل ہو گیا جو دیسی طیارہ بردار بحری جہازوں کو ڈیزائن اور بنانے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔
      اس موقع پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان، وزیر اعلیٰ پی وجین، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے وزیر سربانند سونووال، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، تینوں افواج کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
      آئی این ایس وکرانت INS Vikrant کو قوم کے نام وقف کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، وکرانت صرف ایک جنگی جہاز نہیں ہے، یہ 21ویں صدی کے ہندستان کی محنت، ہنر، اثر و رسوخ اور عزم کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہندوستانی بحریہ کے لیے پہلا مقامی طور پر ڈیزائن اور بنایا گیا جنگی جہاز ہے۔ یہ 262 میٹر لمبا اور 62 میٹر چوڑا وکرانت تقریباً 43000 ٹن وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ایک بار 7500 سمندری میل کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 28 سمندری میل فی گھنٹہ ہے۔


      جہاز میں تقریباً 2200 کمپارٹمنٹس ہیں اور اس میں 1600 میرینز کو تعینات کیا جا سکتا ہے جن میں خواتین افسران اورسیلرس کے لئے خصوصی کیبن بھی شامل ہیں۔ طیارہ بردار بحری جہاز میں جدید ترین طبی آلات کی سہولیات کے ساتھ جدید ترین میڈیکل کمپلیکس ہے جس میں ماڈیولر آپریشن تھیٹر، ایمرجنسی ماڈیولر آپریشن تھیٹر، فزیو تھراپی کلینک، آئی سی یو، لیبارٹریز، سی ٹی اسکینر، ایکس رے مشین، ڈینٹل کمپلیکس، آئسولیشن وارڈ اور ٹیلی میڈیسن کی سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔


      اس طیارہ بردار بحری جہاز سے مقامی طور پر ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر (اے ایل ایچ) اور لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ (ایل سی اے) (بحریہ ) کے علاوہ مگ-29 لڑاکو جہاز، ماموو-31، ایم ایچ-60 آر کثیرالمقاصد ہیلی کاپٹروں سمیت 30 سے زیادہ طیاروں کا آپریشن کیا جا سکتا ہے۔یہ بھی پڑھیں: Modi to Arrive in Kochi مودی آج دو روزہ دورے پر کیرالہ پہنچیں گےوکرانت کو بھارتی بحریہ کی اندرونی تنظیم وار شپ ڈیزائن بیورو نے ڈیزائن کیا ہے اور اسے بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے تحت پبلک سیکٹر کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ (سی ایس ایل) نے بنایا ہے۔ اس طیارہ بردار جہاز کا نام اس سے قبل 1971 کی جنگ میں اہم کردار ادا کرنے والے طیارہ بردار کے نام پر رکھا گیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: