ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

شہریت ترمیمی بل کو سپریم کورٹ میں کیا گیا چیلنج، انڈین یونین مسلم لیگ نے داخل کی عرضی

آئی یو ایم ایل نے اپنی عرضی میں کہا،برائے مہربانی سی اے بی کو غیرقانونی اورفضول قراردیں۔ یہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 14،15 اور 21 کی خلاف ورزی ہے۔

  • Share this:

انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل ) نے شہریت ترمیمی بل(سی اے بی)کے راجیہ سبھا میں پاس ہونے کے ایک دن بعد جمعرات کو سپریم کورٹ میں بل کو چیلنج دینے والی عرضی داخل کی۔آئی یو ایم ایل نے اپنی عرضی میں کہا،’’برائے مہربانی سی اے بی کو غیرقانونی اورفضول قراردیں۔ یہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 14،15 اور 21 کی خلاف ورزی ہے۔‘‘




عرضی مین دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی اے بی غیر قانونی،بے معنی اور غیر آئینی ہے۔آئی یو ایم ایل نے الزام لگایا ہے کہ بل آئین کے تحت برابری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق ایک دو ہفتے کے اندر عرضی پر سماعت کےلئے غور کیاجاسکتا ہے۔واضح رہے کہ سی اے بی کی منظوری کے بعد سے آسام سمیت شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں ۔



یادرہے کہ لوک سبھا میں منظوری کے بعد کل راجیہ سبھا میں شہریت ترمیمی بل پربحث کے بعد ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس دوران راجیہ سبھا میں بھی یہ بل منظورہوگیا ہے۔ حکومت کے حق میں 125 ووٹ پڑے جبکہ بل کی مخالفت میں 105 ووٹ پڑے۔ اس طرح سے اب شہریت ترمیمی بل کودونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے۔ اب یہ جلد ہی قانون بن جائے گا۔
First published: Dec 12, 2019 03:30 PM IST