ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں سرکاری اردواسکولوں کے ساتھ ناانصافی، اب تک نصابی کتابیں نہ ملنے اورمسلم لیڈرشپ کی خاموشی پراٹھ رہے ہیں سوال

محکمہ تعلیم اور اقیلیتی محکمہ سے شکایات کرنے کے بعد سرکاری افسرایک دوسرے پرذمہ داری کومنتقل کرتےآرہے ہیں۔ اس طرح سے بچوں کا مستقبل تاریک نظرآرہا ہے۔

  • Share this:
کرناٹک میں سرکاری اردواسکولوں کے ساتھ ناانصافی، اب تک نصابی کتابیں نہ ملنے اورمسلم لیڈرشپ کی خاموشی پراٹھ رہے ہیں سوال
کرناٹک کے سرکاری اردو اسکولوں میں نصابی کتابیں تک نہیں دستیاب ہو پا رہی ہیں۔

کرناٹک میں تعلیمی سال شروع ہوئے 6 ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک اردو اسکولوں میں مکمل طورپرنصابی کتابیں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ اردو اسکولوں کے ساتھ  ہورہی  ناانصافی پرمسلم لیڈروں کی خاموشی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔


ریاست کرناٹک میں سرکاری اردو اسکول ویسے تو کئی مسائل سے دوچارہیں، لیکن فی الوقت اہم مسئلہ نصابی کتابوں کا ہے۔ جون سے ہی تعلیمی سال کا آغاز ہواہے۔ نومبرکا مہینہ ختم ہورہا ہے، لیکن اب تک کئی اردواسکولوں میں مکمل طورپرنصابی کتابیں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔


بنگلورو کے شیواجی نگر کی اردواسکول میں محکمہ تعلیم سے کئی کتابیں آنی باقی ہیں۔ لہٰذا یہاں کے ٹیچرگزشتہ سال کے طلبا سےکتابیں لے کرموجودہ طلبا کوپڑھارہے ہیں۔ اردوٹیچرکونسل کے صدر فیض اللہ بیگ جنیدی نے کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ تعلیم اور اقیلیتی محکمہ سے شکایت کی گئی ہے، لیکن سرکاری افسرایک دوسرے پرذمہ داری کومنتقل کرتےآرہے ہیں۔

اس مسئلہ کونیوز18اردو نے محکمہ تعلیم کے سامنے رکھا۔ اردواوردیگراقلیتی لسانی اسکولوں کی ڈائریکٹرزہرا جبین کہتی ہیں کہ اسمبلی انتخابات کی وجہ سے نصابی کتابوں کی پرنٹنگ میں تاخیرہوئی ہے۔ گزشتہ سال ہی اساتذہ کو پرانی کتابیں اکھٹا کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔ اب تمام اضلاع کو نصابی کتابیں روانہ کی گئی ہے۔ صرف چند کتابیں بچوں تک  نہیں پہنچ سکی ہیں۔ زہرا جبین نے کہا کہ اگر بی ای او سے غلطی ہوئی ہے توکارروائی کی جائےگی۔
کرناٹک میں دن بدن اردواسکولوں کی حالت خستہ ہورہی ہے۔ اساتذہ اوربنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے معیارتعلیم متاثرہورہاہے۔ ایک جانب حکومت کی لاپرواہی تودوسری طرف مسلم لیڈروں کی خاموشی، تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔
First published: Nov 25, 2018 07:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading