Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

    تبلیغی جماعت اور پادرائن پورہ کا مسئلہ اٹھا کر سیاست کرنے والے سبق حاصل کریں : دانشوران

    بنگلورو، گلبرگہ اور ریاست کے چند دیگر شہروں میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے حکومت اور عوام دونوں کو ملکر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
    تبلیغی جماعت اور پادرائن پورہ کا مسئلہ اٹھا کر سیاست کرنے والے سبق حاصل کریں : دانشوران
    تبلیغی جماعت اور پادرائن پورہ کا مسئلہ اٹھا کر سیاست کرنے والے سبق حاصل کریں : دانشوران

    کورونا کی مہلک بیماری پر قابو پانے کیلئے بنگلورو سمیت کرناٹک کے چند دیگر اضلاع میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے ۔ اس مرتبہ مرکز نے نہیں بلکہ ریاستی حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے ۔ یہ نیا لاک ڈاؤن پچھلے لاک ڈاؤن سے مختلف ہے ۔ کیونکہ ریاستی حکومت نے اس لاک ڈاؤن میں کئی سطح پر ڈھیل دی ہے ۔ زراعت کی سرگرمیوں کیلئے مکمل اجازت کے ساتھ کئی معاشی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بنگلورو میں اشیائے ضروریہ کی دکانوں کو صبح 5 بجے سے دوپہر 12 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔


    بنگلورو کے دانشور، ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ اس بار کا لاک ڈاؤن پچھلے لاک ڈاؤن سے مختلف ہوگا۔ معررف ڈرامہ نگار ظفر محی الدین کہتے ہیں کہ اس وقت کورونا کی وبا پوری ریاست میں پھیل چکی ہے۔ اب اس پر قابو پانا صرف حکومت کی کوششوں سے ممکن نہیں ، عوام کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگا ۔ اس وبا سے بچنے کیلئے بتائے گئے طریقوں پر مکمل طور عمل کرنا ہوگا ۔ ظفر محی الدین نے کہا کہ نہ صرف عام لوگ بلکہ پولیس ، ڈاکٹر، سیاستدان اور سلیبریٹیز سب تک کورونا کا مرض پہنچ چکا ہے ۔ ہر شعبہ حیات کے لوگ اس بیماری کے دکھ اور درد محسوس کررہے ہیں۔ لہذا ذات پات ، مذہب ، علاقہ ان تمام چیزوں سے اوپر اٹھ کر اس وبا کے خلاف سب کو مل جل کر لڑنے کی ضرورت ہے ۔


    ماہر تعلیم اور کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے رکن تنویر احمد کہتے ہیں کہ پچھلے لاک ڈاؤن میں ہوئی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔ بیماری کو بیماری کی نگاہ سے دیکھا جائے ۔ تنویر احمد نے کہا کہ کورونا وائرس نے ملک میں جوں ہی قدم رکھا ، اس وائرس کو روکنے کی بجائے تبلیغی جماعت پر لمبی لمبی بحثیں ہوئیں ۔ اس وبا کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا ۔ بیماری کو ایک مذہب سے جوڑنے کی کوششیں کی گئیں ۔ کرناٹک میں پہلے لاک ڈاؤن کے دوران میڈیا میں تبلیغی جماعت اور پادرائن  پورہ کے ایشوز ہی چھائے رہے ۔


    تنویر احمد نے کہا کہ اس طرح کی سیاست کی وجہ سے ابتدا میں نہ عوام نے اور نہ ہی حکومت اور سیاسی پارٹیوں نے کورونا کی بیماری کو سنجیدگی سے لیا ۔ سیاسی پارٹیوں نے بیماری کو روکنے کی بجائے سیاسی فائدے ڈھونڈنے کی خوب کوششیں کیں ۔ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے اشتعال انگیز بیانات دئے ۔ ایک طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ تنویر احمد نے کہا کہ پہلے مرحلے میں حکومت نے طبی سہولیات کو بڑھانے کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ لہذا  اس پورے معاملے میں حکومت اور عوام  دونوں سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔ اب جبکہ یہ وبا پھیل چکی ہے، بے قابو ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، سب کو ملکر، متحد ہوکر اس بیماری کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے ۔

    بنگلورو کے دانشور، ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ اس بار کا لاک ڈاؤن پچھلے لاک ڈاؤن سے مختلف ہوگا۔
    بنگلورو کے دانشور، ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ اس بار کا لاک ڈاؤن پچھلے لاک ڈاؤن سے مختلف ہوگا۔


    امامیہ ایجوکیشن ٹرسٹ کے صدر مرزا مہدی نے کہا کہ کورونا کی وبا کو روکنے کیلئے صرف لاک ڈاؤن کا طریقہ کافی نہیں ہے ۔ زیادہ سے زیادہ کورونا کی ٹسٹنگ کی جانی چاہئے ۔ طبی سہولیات کو بڑھانا چاہئے ۔ مرزا مہدی کہتے ہیں کہ وقت پر طبی مدد نہ ملنے کے سبب کئی لوگوں کی موت ہوئی ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ میڈیکل انفراسٹرکچر کو بڑھائے ۔ جے ڈی ایس لیڈر محمد ظفراللہ خان نے کہا کہ غریب طبقے کیلئے کورونا کی بیماری کا مفت علاج فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ امیر اور درمیانی طبقہ بڑے بڑے نجی اسپتالوں تک پہنچ کر علاج حاصل کرلے گا ۔ لیکن بیچارہ غریب طبقہ  کہاں جائے ، سرکاری اسپتالوں میں بیڈ کی قلت ہے ، سہولیات کا فقدان ہے۔ ظفر اللہ خان نے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کورونا سے اب تک جتنی اموات ہوئی ہیں ، ان میں غریب مریضوں کی تعداد زیادہ ہوگی ۔

    جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ کے ٹرسٹی عثمان شریف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کورونا مرض سے نہ گھبرائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ کورونا کی ٹسٹنگ کروانے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں ، ایسا نہیں ہونا چاہئے ، جس کسی میں بھی کورونا مرض کی علامتیں ہوں ، وہ فوری طور کورونا کا ٹسٹ کروالے ، اس مرض کو چھپانا اپنی اور دوسروں کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔

    بنگلورو ڈسٹرکٹ ٹیکس پر ایکٹشنرس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر نیاز احمد خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے تجارت اور معیشت پر اثر ضرور ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں اور تاجروں کے ادارے ایف کے سی سی آئی نے لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا تھا ۔ لیکن  عوام کی صحت کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نیاز احمد خان نے کہا کہ  حکومت کو کچھ ایسے اقدامات بھی کرنے چاہئیں ، جس سے عوام کو راحت مل سکے ۔ مثلا بجلی اور پانی کے بل میں کمی کی جانی چاہئے ،  کرایہ داروں کو کچھ راحت فراہم ہو ،  تجارت اور صنعت کے شعبوں کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے ، اس طرح کے اقدامات حکومت کی جانب سے ہوں تو عوام کی پریشانیوں میں کمی ہوگی ۔

    واضح رہے کہ مارچ کے آخری ہفتہ سے لیکر 31 مئی تک ملک بھر میں مرکزی حکومت نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ اب ڈیڑھ ماہ کے وقفہ کے بعد بنگلورو میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 14 جولائی رات 8 بجے سے شروع ہوا یہ لاک ڈاؤن 22 جولائی صبح 5 بجے تک جاری رہے گا ۔
    Published by: Imtiyaz Saqibe
    First published: Jul 15, 2020 10:00 AM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading