ہوم » نیوز » وطن نامہ

اگر جسمانی تعلقات کو لیکر کھلا نظریہ ہو تو کیا اس چیز سے چھٹکارا مل سکتا ہے؟

ایک سماج کے طور پر اگر ہم جنسی خواہشات کے بارے میں اس طرح زیادہ کھلے ہوتے کہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچے اور یہ لوگوں کو قبول ہو تو کیا ہمارے آس۔پاس (toxic relationships ) بنتے ہیں، کیا ہمیں اس سے چھٹکارا مل سکتا تھا؟

  • Share this:
اگر جسمانی تعلقات کو لیکر کھلا نظریہ ہو تو کیا اس چیز سے چھٹکارا مل سکتا ہے؟
اگر جسمانی تعلقات کو لیکر کھلا نظریہ ہو تو کیا اس چیز سے چھٹکارا مل سکتا ہے؟

ایک سماج کے طور پر اگر ہم جنسی خواہشات کے بارے میں اس طرح زیادہ کھلے ہوتے کہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچے اور یہ لوگوں کو قبول ہو تو کیا ہمارے آس۔پاس (toxic relationships ) بنتے ہیں، کیا ہمیں اس سے چھٹکارا مل سکتا تھا؟


یہ یقینی طور پر ایک پر امید اور ترقی پسند نظریہ ہے۔ لیکن آلودہ رلیشن شپ (toxic relationships ) تعلقات میں عموما طاقت کے (Unbalanced) ہونے سے پیدا ہوتا ہے جس میں ایک پارٹنر تو دوسرے پارٹنر کے ساتھ کچھ بھی برا کرکے بچ نکلتا ہے (اور کچھ معاملوں میں دونوں ہی پارٹنر ایک دوسرے کے لئے برے ہوتے ہیں)۔ کئی باتیں اس کیلئے ذمے دار ہوتی ہیں۔ یہ سماجی ہو سکتے ہیں جیسے کہ (Patriarchal) باتیں یا نجی بھی، جیسے کہ خود اعتمادی یا خود کی قیمت (self-esteem self-worth) کو نہیں سمجھنا۔ معاشرے کی جنسی خواہشات کو قبول کرنا کسی حد تک ان چیزوں پر قابو پا سکتا ہے جن سے یہ عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔


جنسی تعلقات میں ساتھی کا طرز عمل عام طور پر سماجی روایات اور توقعات سے متاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ، ماضی میں اگر ایک ایک عورت کے ایک سے زیادہ مرد کے ساتھ تعلقات رہے ہیں تو اسے بد چلن، بد کردار کہا جاتا ہے۔ اس بیہودہ جنسی تعصب کی وجہ سے ایک عورت اپنے تعلقات کو خراب ہونے دے سکتی ہے۔ اسی طرح ایک مرد ، جو مین اسٹریم کی جنسی پسند سے الگ پسند کا حامل ہو ، اس پر اس خوف سے ٹاکسک ریلیشن شپ میں برقرار رہنے کیلئے دباو پڑسکتا ہے کہ اس کا پارٹنر کہیں اس کی حقیقت کو اجاگر نہ کردے ۔ شادی سے پہلے سیکس پر جو روک ہے یا جس طرح کا ڈر اس سے وابستہ ہے ، وہ خواتین اور یہاں تک کہ مردوں کے وجود کو بھی کم کرتا ہے اور اس کو  ایسے لوگوں کو خراب رشتے میں بنائے رکھنے کیلئے اوزار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، جو اس طرح کے رشتے میں نہیں رہنا چاہتے ہیں ۔


حالانکہ کسی جوڑے کے (toxic relationships) میں ہونے کا صرف ایک ہی طریقہ نہیں ہے۔ یہ یقینی طور پر ایسی بات ہے جسے اگر سماج جنسی خواہشات یا سیکس کے بارے میں کھلے رویوں کو اپنائے اور اسے قبول کر لے تو دور کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اگر سبھی (toxic relationships ) کو ختم کرنا ہے تو خود سے پیار کرنے اور ذہنی صحت کیلئے بہتر سہولت بنانے میں زیادہ وقت دینا ہوگا۔

لوگوں کو یہ سمجھنا شروع کر دینا چاہئے کہ ان کا وجود اس سے طے نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح کے رلیشن شپ میں ہیں۔ زندگی چلتی رہتی ہے اور جو شخص آپ کو رلاتا ہے اور آپ کی نیند حرام کر دیتا ہے، ایسے لوگوں کے بغیر بھی آپ خوش رہ سکتے ہیں۔ آپ اچھے ہیں اور لوگ آپ سے پیار کرتے ہیں۔ یہ کہ دنیا میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے دل کا سچا ساتھی کہا جا سکے اور اگر ہے بھی تو وہ شخص نہیں ہے جو اب آپ کو دکھ دے رہا ہے اور یہ کہ اگر آپ اس کو جانے بھی دیں تو بھی آپ کو میار مل سکتا ہے۔ یہ بات کہ آپ ابھی ٹوٹے نہیں ہیں بھلے ہی آپ کتنا بھی سوچیں کہ آپ ٹوٹ گئے ہیں۔ یہ کہ آپ مکمل ہیں اور آپ کو مکمل بنانے کیلئے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ کہ سب سے زیادہ ضروری ہے کہ آپ خوس کو سب سے زیادہ پیار کریں۔

 
Published by: sana Naeem
First published: Dec 29, 2020 07:05 PM IST